لیڈری کرنے والے علمائے کرام مسلمانو ں کے نہیں سیاسی پارٹیوں کے وفادار ….!!

تحریر۔ شکیل رشید۔۔انڈیا۔۔ایف اے آئی ۔۔۔

مولانا عبیداللہ خان اعظمی کو پہلی دفعہ میں نے ١٩٨٤ء میں اُس وقت دیکھا تھا جب ایک تقریر کے سلسلے میں پولس انہیں تلاش کررہی تھی۔ ایک تقریر کرتے ہوئے انہوں نے یہ دھمکی دی تھی کہ کانگریس اور بھاجپائی لیڈروں کو کلمہ پڑھوائیں گے اور ان کی شہرت کو پَر لگ گئے تھے ۔ ممبئی کی ٥ ویں گلی کے مقرر کی حیثیت سے مانے جانے والے مولانا عبیداللہ خان اعظمی راتوں رات سارے ہندوستان میں مشہور ہوگئے۔ ان کے آڈیوکیسٹ دھوم سے بکنے لگے ۔ اس شہرت کا انہوں نے جس طرح سے فائدہ اٹھایا وہ جگ ظاہر ہے ۔ سابق وزیراعظم وی پی سنگھ نے مسلمانوں کو کھینچنے کے لئے ان کی خدمات اس طرح سے حاصل کیں کہ انہیں راجیہ سبھا کا رکن یعنی ممبر پارلیمنٹ بنوادیا ۔ پھر مرکزی وزیرریل لالوپرساد یادو کی نظر کرم ان پر گئی اور وہ دوسری بار بہار سے راجیہ سبھا پہنچے ،تیسری بار انہوں نے اسی کانگریس کو رام کیا جس کے لیڈر ان بالخصوص اندرا اور راجیوگاندھی کو انہوں نے کلمہ پڑھوانے کی دھمکی دی تھی۔ اب راجیہ سبھا میں جب کانگریس کے ایم پی کے طور پر ان کی مدت خاتمے کی قریب ہے تو انہوں نے سماج وادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو سے قربت حاصل کرلی ہے اور یہ عین ممکن ہے کہ راجیہ سبھا میں چوتھی بار وہ سماج وادی پارٹی کے رکن کی حیثیت سے نظر آئیں ۔۔۔ یہ کہانی صرف مولانا عبیداللہ خان اعظمی کی ہی نہیں ساری مسلم لیڈر شپ بالخصوص ان علمائے کرام کی کہانی ہے جو لیڈری بھی کرتے ہیں ۔۔۔ عبیداللہ خان اعظمی کی یاد اور اس یاد کے بعد لیڈری کرنے والے علمائے کرام کا تذکرہ یوں آگیا کہ حال ہی میں دہلی کے اردو ہفت روزہ ’ نئی دنیا‘ نے مولانا عبیداللہ خان اعظمی کا ایک انٹرویو شائع کیا ہے جس میں مولانا کو کانگریسی ایم پی تو کہا گیا ہے مگر مولانا سے باتیں کانگریس کے خلاف کہلائی گئی ہیں ۔ مولانا نے اس انٹرویو میں بابری مسجد سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ:’’ بابری مسجد کی شہادت کی ذمے دار کانگریس ہے ۔ ‘‘ حیرت کہ اتنے برس کانگریس میں گذارنے کے بعد کہیں جاکر مولانا کو پتہ چلا کہ بابری مسجد کی شہادت کی ذمے دار کانگریس ہے !۔ خیر مولانا عبیداللہ خان اعظمی چاہے کانگریس میں رہیں یا سماج وادی پارٹی میں جائیں ، سیاسی دنیا میں وفاداریاں تو بدلتی ہی رہتی ہیں ۔ اب یہی دیکھئے کہ ملائم سنگھ کے بے حد قریبی وفادار بینی پرساد یادو آج ملائم کے ساتھ نہیںہیں ۔ لیکن مسلم لیڈران خصوصاً لیڈری کرنے والے علمائے کرام کا معاملہ کچھ ایسا ہے کہ ان کی وفاداریوں کا اندازہ ہی نہیں ہوپاتا ۔ خیر یہ بھی کوئی بہت حیرت کی بات نہیں ہے کیونکہ مسلم لیڈران اور لیڈری کرنے والے علمائے کرام تو خود اپنوں کے یعنی عام مسلمانوں کے بھی وفادار نہیں ہیں ۔ اترپردیش میں مرحلہ وار ہورہے اسمبلی الیکشن کے پس منظر میں اگر بغور جائز ہ لیا جائے تو بڑی عجیب سی صورت حال سامنے آئے گی ۔ اس سے قبل کہ ہم کوئی جائزہ لیں یہ بتاتے چلیں کہ یوپی اس ملک کی سب سے بڑی ریاست ہے ۔ اس ریاست میں مسلمانوں کی آبادی اس ملک کی دوسری ریاستوں کے مقابلے سب سے زیادہ ہے ۔ کئی اضلاع ایسے ہیں جہاں مسلم ووٹ فیصلہ کن ہوتے ہیں ۔ یہ ریاست اس ملک کی سیاست میں سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ اترآنچل میں لوک سبھا کی پانچ سیٹیں جانے کے باوجود بھی یوپی میں لوک سبھا کی سب سے زیادہ یعنی ٨٠ سیٹیں ہیں ۔ ہر ایک سیاسی پارٹی کی یہ کوشش رہتی ہے کہ وہ یوپی پر قبضہ کرلے تاکہ سارے ملک پر اس کا راج ہو ۔
اس طرح یہ ریاست اس ملک کی سیاست میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے اور مسلمان چونکہ اس ریاست میں بڑی تعداد میں ہیں اس لئے وہ بھی ریاستی اور مرکزی حکومتوں کے بنانے اور بگاڑنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں مگر کر نہیں پاتے کیونکہ بکاؤ مسلم لیڈر شپ اور مختلف سیاسی پارٹیوں میں اپنی وفاداریاں فروخت کرنے والے لیڈر علمائے کرام ، عام مسلمانوں کو مرکزی کردار ادا کرنے کا موقعہ ہی نہیں دیتے ۔۔۔ یوپی مسلمانوں کے لئے کیوں اہم ہے اس کی ایک وجہ تو یہی ہے کہ وہاں ان کی سب سے زیادہ آبادی ہے ۔ ان کی مسجدیں ،عبادت گاہیں ، خانقاہیں اور تاریخی آثار وہاں کے چپے چپے پر نظر آتے ہیں ۔ اگر مسلمان یوپی میں سیاسی طور پر پچھڑ گیا تو سارے ملک میں پچھڑ جائے گا ۔ ۔۔ اور کوشش یہی ہو رہی ہے کہ مسلمانوں کو یوپی میں سیاسی طور پر پچھاڑ دیا جائے ۔۔ بی جے پی کی سی ڈی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ ایسی ہی ایک سی ڈی بی جے پی کے مختار عباس نقوی نے کوئی چھ مہینے پہلے بھی جاری کی تھی۔ حالانکہ سی ڈی پر اب روک لگ چکی ہے لیکن یہ یوپی کے گھر گھر تقسیم کی جارہی ہے ۔ مقصد یہی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کا بازار گرم کیا جائے اور کچھ ایسی اشتعال انگیز مہم چلائی جائے کہ سارا یوپی مسلمانوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہو ، اور سارا کھیل ایک ہی جھٹکے میں ختم کردیا جائے ۔
کھیل ختم کرنے کا مطلب فسادات کے ذریعے مسلم اقلیت کو کمزور کرنا ہے ۔ اس کی سماجی ، تہذیبی ، ثقافتی اور معاشی طور پر کمر توڑنا ہے ۔ اس کے سیاسی رسوخ واثرات کو بے اثر کرنا ہے ۔ سی ڈی کے علاوہ بی جے پی اس مقصد کے لئے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کا نعرہ بھی لگارہی ہے ۔ بابری مسجد کی شہادت کی جذبات بھڑکانے والی سی ڈی بھی منظر عام پر لائی گئی ہے اور بی جے پی نے ایسے اشتہارات بھی شائع کروائے ہیں جن میں ’پاک‘ اور ’آئی ایس آئی‘ اور ’سیمی‘ کے لفظوں سے کچھ ایسا کھلواڑ کیا گیا ہے کہ مسلمان اس ملک کی اکثریت کی نظروں میں مشکوک ٹھہرجائے۔ یہ خطرناک کھیل صرف اور صرف اقتدار کے لئے ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ مسلم لیڈر شپ اور لیڈری کرنے والے علمائے کرام سنگھ پریوار یعنی بی جے پی ، بجرنگ دل ، وشوہندو پریشد، آر ایس ایس اور شیوسینا کے اس کھیل کونہیں جانتے ۔ بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں ۔لیکن انہیں عام مسلمانوں کی جان ومال ، عزت وآبرو کی نہیں اپنی پرواہ رہتی ہے ،اس لئے جب ایک جگہ دال گلتی نظر نہیں آتی تو وہ کود کر ایک سے دوسری اور دوسری سے تیسری سیاسی پارٹی میں شامل ہوجاتے ہیں ۔ جیسے مولانا عبیداللہ خان اعظمی نے کیا ۔
کانگریس کی اچھائی اور برائی مولانا جس طرح آج جانتے ہیں پہلے بھی جانتے تھے۔مولانا آج سماج وادی پارٹی کو اچھا کہہ رہے ہیں لیکن پہلے وہ اسے برابھلا کہتے نظر آتے تھے ۔ زبان اور بیان میں اتنا بڑا فرق صرف اس لئے ہے کہ کہیں وہ نرم گدی نہ چھن جائے جس پر بیٹھنے کی عادت پڑگئی ہے ۔ جیسا کہ ہم تحریر کرچکے ہیں اور بھی ایسے علمائے کرام ہیں جو لیڈری کا شوق رکھتے ہیں لیکن اصلاً اپنے عمل سے مسلمانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ یوپی الیکشن کے موقع پر مولانا توقیر رضا خان بھی اتحاد ملت کے نام پر سیاسی اکھاڑے میں کود ے ہیں ۔ ان کی سیاسی پارٹی نے کئی امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے ۔ قاری محمد میاں مظہری بھی اپنے امیدواروں کے ساتھ یوپی اسمبلی میں خم ٹھونک کر کود پڑے ہیں ۔ شاہی امام سید احمد بخاری کی پارٹی بھی الیکشن لڑرہی ہے ۔ شیعہ عالم مولانا کلب جواد کے امیدوار بھی ہیں ۔ اور اسی طرح نہ جانے کتنے علمائے کرام ہیں جو مسلمانوں کے لئے اس نازک موقع پر بھی ، مسلم ووٹروں کوبکھیرنے کے لئے میدان میں اترآئے ہیں ۔ ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں مثلاً مولانا توقیر رضا خان اور قاری محمد میاں مظہری جنہیں اگر بی جے پی کا ایجنٹ بھی کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا ۔ شاہی امام نے بھی کبھی بی جے پی کے سینئر لیڈر اٹل بہاری واجپئی کی حمایت کا باضابطہ اعلان کیا تھا حالانکہ اس بار انہوں نے اس طرح کا کوئی اعلان نہیں کیا ہے لیکن وہ کانگریس کی شدت سے مخالفت کررہے ہیں ۔ اسی طرح کانگریس ، سماج وادی پارٹی ،بہوجن سماج پارٹی اور بی جے پی کے بھی اپنے اپنے لیڈر علمائے کرام ہیں جومسلمانوں کے درمیان پہنچ کر کچھ ایسی شعلہ بیانی سے تقریر کرتے ہیں کہ مسلمان ووٹر گومگوکی حالت میں پہنچ جاتا ہے کہ بھلا ووٹ کسے دیا جائے ۔ اس کا نتیجہ ووٹوں کی تقسیم کی صورت میں ہی نکلتاہے۔ یہ تمام لیڈر علمائے کرام اپنی شعلہ بیانی اور مسلمانوں میں اپنی امیج کا اپنے مفادات کے لئے استحصال کرتے ہیں ۔
سیاست دانوں کا تو کوئی ضمیر ہوتا نہیں ، وہ بس لوگوں کو استعمال کرنا جانتے ہیں ۔ ممبئی سے بھی ان سیاست دانوں کے استعمال کے لئے لیڈری کرنے والے علمائے کرام کی ٹولیاں یوپی پہنچ رہی ہیں ۔ اور یہ علمائے کرام الگ الگ سیاسی پارٹیوں کے وفادار ہیں ۔ ان میں آپس میں چپقلش بھی ہے ۔ مثال اترآنچل کی ہی لے لیں ۔ ابھی حال ہی میں جب اترآنچل میں الیکشن تھے تب ممبئی سے علمائے کرام کی ایک ٹولی ، جس میں حافظ سید اطہر علی بھی شامل تھے ، کانگریس کی انتخابی مہم میں حصہ لینے وہاں گئی تھی۔ لیکن دہلی کے مولانا اطہر دہلوی نے کچھ ایسی منصوبہ بندی کی کہ نہ ان علمائے کرام کو انتخابی مہم میں تقریروں کا موقعہ مل سکا نہ ہی یہ وہاں اسٹیج کی زینت بن سکے ۔ خیر یہ نقصان میں نہیں رہے کیونکہ اترآنچل میں کانگریس کی لٹیا ہی ڈوب گئی ۔ آپسی چپقلش کا یہ حال ہے کہ یہ تحریک ممبئی میں جب چلی کہ علمائے کرام اگر ایک اسٹیج پر متحد ہوکر آجائیں تو عام مسلمان بھی متحد ہوجائیں گے مگر جب کئی تنظیمیں اور جماعتیں ایک اسٹیج پر آگئیں تو مزید انتشار پیدا ہوگیا ۔ اور جب تک لیڈری کرنے والے علمائے کرام اپنے ہی مفادات کی پرواہ کرتے رہیں گے تب تک انتشار بھی رہے گا اور مسلمان بے اوقات بھی رہے گا ۔ اب تو علمائے کرام ہوش کے ناخن لیں ۔