معاشی تفاوت کا خاتمہ

رضوان احمد ساگر

تحریر ۔تحریر ۔ رضوان احمد ساگر

rizwan-m.jpgایشائی تر قیا تی بینک کی ایک رپو رٹ کے مطابق گزشتہ دوسالوں کے دوران ملک میں بیروزگا ری کی شرح میں بہت زیا دہ اضا فہ ہو ا ہے جو کہ بیروزگا ری کی شرح میں اس دہا ئی کا سب سے بڑا اضا فہ ہے ۔ بلو چستان اورپنجاب میں بے روز گا ر نو جو انوں کی تعداد میں روز افزوں اضا فہ دیکھا جا رہاہے ۔جبکہ صوبہ سرحد میں بھی صورتحال کچھ زیا دہ مختلف نہیں ہے ،رپو ر ٹ میں کہا گیا ہے کہ حکو مت کو بیروزگا ری کی شرح میں کمی لا نے کیلئے مو ثر اورکا ر آمد پا لیسیاں مر تب کر نے کی ضرورت ہے ۔جن کے با عث نو جو انوں کو روزگا رفراہم کیا جا سکے ۔رپو رٹ میں کہا گیا ہے کہ سندھ اوربلو چستان میں 2001-02اور 2003-4کے دوران بیروزگا ری کی شرح میں اضا فہ دیکھا گیا ۔جبکہ صوبہ سرحد میں 1990-91کے دوران بیروزگا رنوجو انوں کی بڑی تعداد موجود تھی ۔ملک میں مجموعی طو رپر 2001-02کے دوران بیروزگا ری کی شرح میں کم واقع ہو ئی اور بیروزگا ری کی شرح 8.3فیصد سے کم ہو کر 7.7فیصد ہوگیا۔1990-98کے مقابلے میں گز شتہ دو سالوں کے دوران مجمو عی طو رپر بیروزگا ری کی شرح میں سب سے زیا دہ اضافہ ہو ا۔سال 2003-04کے دوران بیروزگاری کی شرح میں سب سے زیا دہ اضا فہ 12.9فیصد صوبہ سرحد میں ہو ا جبکہ اسی مد ت کے دوران صوبہ سندھ بیروزگا ری کی شرح 6فیصدتھی جو صوبہ سرحد کے مقابلے میں بہت کم تھی جبکہ پنجاب اورصوبہ بلوچستان میں زیر تبصرہ مد ت کے دوران باالتر تیب 7اور 8فیصد لیبرفو رس بیروزگا ر تھی۔

پیپلز لیبر بیورو نے’’حقائق نامہ‘‘ کی پانچویں قسط جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کے واقعات بے روزگاری ‘غربت ‘مہنگائی اور معاشرتی نا ہمواریوں و سماجی مسائل نے پاکستان کو بارود کا ڈھیر بنا دیا ہے جسکوحکومت کے خلاف رد عمل میں ابھرنے والی تحریک کی معمولی چنگاری دھماکہ خیز بنا سکتی ہے ۔ رواں مالی سال میں دس ماہ کے دوران اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں 8.14فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں 6.92فیصد اضافہ ریکارڈ کیا تھا رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ کے دوران 8.14فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اوراپریل کے دوران گزشتہ ماہ کی نسبت 31فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ جنوری کے دوران افراط زر 6.6فیصد تھی جبکہ مالی سال کے پہلے دس ماہ کے دوران افراط زر کی شرح 8.14فیصد ہے ۔حکومت کا کہنا ہے کہ افراط زر کی شرح میں کمی واقع ہو رہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مشرف دور حکوت میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد 6کروڑ سے زائد تک پہنچ چکی ہے پاکستان کی 63فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور انہیں تعلیم صحت اور پینے کے صاف پانی کی سہولت میسر نہیں ہے جبکہ ہر پاکستانی کی ماہان آمدنی 748.56روپے بنتی ہے اس طرح روزانہ کی آمدن تقریباً 28روپے بنتی ہے یعنی ہر پاکستانی 28روپے میں تعلیم‘ صحت ‘ صاف پانی کے پانی او ردو وقت کی روٹی میں سے کسی ایک چیز سے استفادہ کر سکتا ہے لیکن اسکے برعکس گزشتہ سالوں میں سینٹ اسمبلیوں کے ممبران اعلیٰ افسران اور ججوں کی تنخواہوں میں تین سو فیصد اضافہ کیا گیا ۔

پاکستان کی برآمدات گزشتہ سال کی نسبت دس ماہ کے دوران چار کروڑ 50لاکھ ڈالر اضافی اور درآمدات 25ارب ڈالر رہی ہے گزشتہ سال تجارتی خسارہ 9.85ار ب ڈالر تھا جس میں اس سال اضافہ ہوا ہے ۔ سی بی آر نے ریو نیو حاصل کرنے کے ہدف کے مقابلے میں 7ارب روپے زائد ریو نیو 660ارب روپے حاص کیاہے گزشتہ سال کی نسبت پرائیویٹ سیکٹر کو 73ارب روپے کم دئیے گئے ہیں اور اسی سال 266ارب روپے قرضے دئیے گئے ۔گزشتہ سال کی نسبت اس سال لیدر مصنوعات کی برآمدات میں 18کروڑ 70لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی ہے گزشتہ سال 10ماہ میں 55کروڑ 60لاکھ ڈالر اور اس سال 36کروڑ 90لاکھ ڈالر کی برآمدات ہوئیں اسی طرح افراط زر میں بھی .03فیصد اضافہ ہوا ہے زر مبادلہ کے ذخائر 13.733ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جن میں سے 2.182ابر ڈالر شیڈولڈ بینکوںکے ہیں ۔ ملک بھر میں زیر گردش نوٹوں کی مالیت 882ارب روپے ہو گئی ہے جو گزشتہ سال 29اپریل کے مقابلے میں 12.7فیصد زائد ہے اس طرح ایک سال کے دوران ملک میں زیر گردش نوٹوں کی مالیت میں 99ارب روپے اضافہ ریکارڈ کیا ۔ اپریل 2007ء کے دوران زیر گردش نوٹوں کی مالیت میںمارچ کے مقابلے میں تین ارب 67کروڑ روپے اضافہ ہوا ۔وفاقی بجٹ 2007-08ء سی بی آر کی جانب سے عوام پر 165ارب کا اضافہ بوجھ ڈال دیا جائیگا ۔

حکومتی ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 10ماہ جولائی تا اپریل کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانی تارکین وطن 4,450.12 ملین ڈالر مالیت کی ریکارڈ ترسیلات بھیجی ہیں جبکہ گزشتہ مالی سال اسی مدت کے دوران 3,629.68 ملین ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئی تھیں ۔ رواں مالی سال کے ابتدائی دس ماہ کے دوران بھیجی گئی ترسیلات گزشتہ سال اسی مدت کے دوران بھیجی گئی ترسیلات 820.44ملین ڈالر زائد ہیں ۔ اس طرح گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں بیرون ملک مقیم پاکستانی تارکین وطن نے رواں مالی سال میں 22.60 فیصد زائد ترسیلات بھیجیں ۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق زیر تبصرہ ترسیلات میں فارن ایکسچینج بیئرر سرٹیفکیٹ (FEBS,s) کی انکیشمنٹ اورفارن کرنسی بیئرر سر ٹیفکیٹ(FCBS,s) سے حاصل ہونے والا منافع2.24ملین ڈالر بھی شامل ہے ۔

پاکستان سوشل اینڈ لیونگ سٹینڈرڈ سروے 2005-06ء کو اگر ہم دیکھیں تو اس میں بتایا گیا ہے کہ پرائمری تعلیم کیلئے 5 سال سے 9 سال اور 6 سے 10 سال کے بچوں کے داخلے کی شرح بالترتیب 72 فیصد سے بڑھ کر 87 فیصد اور 71 فیصد سے بڑھ کر 87 فیصد ہو گئی ہے۔ دس سال کی عمر کی آبادی میں لٹریسی کی شرح 45 فیصد سے بڑھ کر 54 فیصد ہو گئی ہے۔ صحت کے شعبہ میں متعدی امراض سے بچاؤ کی ویکسین اور ٹیکوں کی رسائی جو 2001-02ء میں 53 فیصد تھی، 2005-06ء میں یہ شرح بڑھ کر 71 فیصد ہو گئی۔ پیدائش کے بعد بچوں کی شرح اموات ایک ہزار میں سے 82 سے کم ہو کر 70 ہو گئی ہے۔ زچگی کے دوران ماؤں کی شرح اموات 15 سے 49 ماہ کی عمر میں 4.5 فیصد سے کم ہو کر 3.8 فیصد ہو گئی ہے۔ موٹر پمپوں سے پینے کا پانی استعمال کرنے والی آبادی کی شرح 17 فیصد سے بڑھ کر 24 فیصد ہو گئی ہے۔ نکاسی آب کی سہولیات کا دائرہ کار 45 فیصد آبادی سے بڑھ کر 60 فیصد آبادی تک پہنچ چکا ہے۔ اس طرح ٹائلٹ کے بغیر آبادی کی شرح 43 فیصد سے کم ہو کر 30 فیصد ہو گئی ہے۔

اپوزیشن اور حکومتی ذرائع معاشی تفاوت کے جس قدر عکاس ہیں اس سے بخوبی پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں طبقاتی ترقیِ عمل میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہے اور بعض پالیسیوں کے باعث اضافہ ہی ہوتا رہے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عام آدمی کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ یہ اقدام اس عام آدمی کیلئے نہ ہوں جو جھونپڑی میں رہتا ہو اس کی بجلی کا بل 50یونٹ سے کم ہو‘اس کے بچے بھوکے پیاسے ننگ دھڑنگ سکول جاتے ہیں اگر کبھی کوئی بیمار ہو جائے تو سرکاری ہسپتال کے برآمدے میں لیٹا ہفتے میں ایک بار سرخ رنگ کا مکسچر پی کر صحت یاب ہونے کی خواہش رکھتا ہو۔ یہ عام آدمی حکومتی آئیڈیل ہوگا حقیقت میں ایسے کسی آدمی کا کوئی وجود نہیں یا تو اس سے بدترزندگی گزارنے والے موجود ہیں اور پھر اس سے اچھی زندگی گزارنے والے ۔ اس لئے حکومتی زعماء کتابی پالیسیوں سے نکل آئیں اور معاشی تفاوت ختم کرنے کیلئے اقدام کریں۔

معاشی تفاوت کا خاتمہ” ایک تبصرہ

تبصرے بند ہیں