قدرت کا شکنجہ حرکت میں “ کالم“ شاہد اقبال شامی


دنیا بھر میں 737امریکی فوجی اڈے قائم ہیں،سینکڑوں خفیہ مراکز ان اڈوں کے علاوہ ہیں63ممالک پر امریکی فوجی موجود ہیں،لیکن اس کے باوجودامریکہ قدرت کے شکنجے سے نہیں نکل سکتا،قدرت کا وہ شکنجہ جو ہر ظالم کی گردن میں ڈالنے کے لئے بنا ہے اور اب وہی شکنجہ امریکہ کی گردن کی طرف تیزی سے بڑھنا شروع ہو چکا ہے۔

23سالہ امریکی فوجی رابرٹ برگدال جو پچھلے6ماہ سے طالبان کی قید میں ہے اس نے امریکی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افغانستان میں جاری جنگ کو ختم کرانے کے لئے حکومت کے خلاف اٹھ کھڑی ہو ،کیونکہ ہم یہ جنگ کبھی بھی نہیں جیت سکتے۔امریکہ بری طرح قدرت کے شکنجے میں پھنس چکا ہے،ایک امریکی رپورٹ کے مطابق2008ء میں128امریکی فوجیوں نے افغانستان میں خودکشی کی،امریکہ کے ہسپتالوں کا اگر سروے کیا جائے تو اس میں80%دماغی مریضوں کی تعداد عراق و افغانستان جنگ میں حصہ لینے والے فوجیوں کی ہے۔امریکہ کا بجٹ خسارہ پونے2کھرب ڈالر تک پہنچ گیا ہے،امریکہ پر قرضوں کے بوجھ میں پونے4ارب ڈالر روزانہ کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے،اس کا ہر شہری36ہزار ڈالر سے زیادہ کا مقروض ہے۔

گزشتہ7سالوں میںامریکی اخراجات900ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں اور آئندہ10سالوں کے دوران ان اخراجات کے2گنا ہو جانے کی توقع ہے،امریکی ادارے سی،ایس،بی کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف عراق جنگ پر اس وقت تک فوجی اخراجات687ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں،جو دوسری جنگ عظیم کے علاوہ اب تک ہونے والی تمام جنگوں پر اٹھنے والے سب سے زیادہ اخراجات ہیں،رپورٹ کے مطابق افغانستان جنگ پر اب تک 196ارب ڈالرخرچ ہو چکے ہیں،عراق وافغانستان میں جاری جنگوں پر امریکہ کے اب تک ہونے والے اخراجات ویت نام کی جنگ سے50%زیادہ ہو گئے ہیں،رپورٹ کے مطابق2001ء سے اب تک امریکا کے فوجی اخراجات 904ارب ڈالرتجاوز کر چکے ہیں اوران میں اندرون ملک سیکیورٹی انتظامات اور جنگ میں زخمی ہونے والے فوجی اہلکاروں کو دی جانے والی طبی سہولتوں پر اٹھنے والے اخراجات شامل نہیں ہیں۔

امریکی حکومت کی ایک اور رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع کو 2001ء سے30دسمبر2008ء تک 806ارب ڈالر دئیے جا چکے ہیں ان میں508ارب ڈالر عراق جبکہ 118ارب ڈالر افغانستان کے لئے مختص کئے گئے تھے ،افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد کم کرنے کے باوجودامریکہ کے ٹیکس ادا کرنے والے شہریوں کو آئندہ ایک دہائی کے دوران آئندہ جنگی اخراجات کے لئے 416ارب ڈالر سے817ارب ڈالر تک ادا کرنا ہوں گے ،جس سے افغانستان اور عراق کی جنگوں پر2001ء سے2018ء تک اٹھنے والے اخراجات1.3ٹریلین سے1.72ٹریلین تک پہنچنے کا امکان ہے۔

امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق عراق میں مارچ2003ء شروع ہونے والی جنگ کے دوران اب تک5000سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں ،افغانستان میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔دوسری طرف امریکہ میں اقتصادی بحران سے ہر ماہ2بینک بند ہو رہے ہیں،امریکہ میں بے روزگاری کی شرح6.8%سے زائد ہو چکی ہے،جو کہ1992ء کے بعدسب سے زیادہ ہے ،واشنگٹن میں محکمہ محنت کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 598,000امریکی شہریوں کو ملازمتوں سے نکالا جاچکا ہے،دسمبر2008ء سے اب تک36لاکھ سے زائد امریکی شہری بے روزگار ہو چکے ہیں،اس طرح امریکہ میں بے روزگار افراد کی تعداد تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی50لاکھ تک پہنچ گئی ہے،صدرابامہ کی طرف سے787ارب ڈالر کے معاشی پیکج اور قرض داروں کے گھر بچانے کے لئے75ارب ڈالر کے امدادی پیکج کے باوجود مزید بینکوں کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ موجود ہے۔

یہ تمام اعدادوشمار چلاچلا کر کہہ رہے ہیں کہ قدرت اپنا وہ آفاقی حکم صادر کرنے جارہی ہے،جو ہر دور کے متکبر اور سفاک فرعون کے بارے میں اس وقت کیا جاتا ہے جب اس کی ستم گریاں آسمان کو چھونے لگتی ہیں،اب نظر ایسا آنے لگا ہے کہ فرعونی نخوت ومتکبر کا مجسم اور طاغوت کا عالمی ٹھیکیدار امریکہ کسی قلزم کی گہرائیوں میں غرق ہونے لگا ہے۔