امریکہ میں دو پاکستانی نژاد4 پاکستانیوں پر فرد جرم عائد

الیاس کاشمیری اور میجر(ر) عبدالرحمٰن پر توہین آمیز خاکے شائع کرنے پر ڈنمارک کے اخبار پر حملے کی منصوبہ بندی جبکہ تہور حسین رانا اور ڈیوڈ ہیڈلی پر ممبئی حملوں کے الزام میں فرد جرم عائد کیا گیا
واشنگٹن۔ امریکی استغاثہ نے نومبر2009ء میں بھارت کے شہر ممبئی میں حملوں اور ڈنمارک کے ایک اخبار پر حملوں کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے ایک رہنما الیاس کاشمیری اور پاکستانی فوج کے سابق میجر عبدالرحمٰن سمیت دو پاکستانی نژاد امریکی رہائشیوں، تہور حسین رانا اور ڈیوڈ کولمن ہیڈلی عرف داؤد گیلانی پر فرد جرم عائد کی ہے۔یہ فرد جرم شکاگو کی ایک عدالت میں جیوری کے سامنے عائد کی گئی ہے۔ ہیڈلی اور رانا دونوں پہلے ہی حراست میں ہیں اور ان کے وکلاء نے الزامات کی تردید کی ہے۔اس سے قبل حکام نے صرف ہیڈلی اور رانا پر ممبئی حملوں کی سازش میں ملوث ہونے کی فرد جرم عائد کی تھی۔ ممبئی حملوں میں چھ امریکیوں سمیت کم از کم170 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ سینکڑوں دیگر زخمی ہوگئے تھے۔گزشتہ برس اکتوبر کے مہینے میں ہیڈلی پر ایک اور پاکستانی نژاد کینیڈیائی شہری تہورحسین رانا کے ہمراہ ڈنمارک کے اس اخبار پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا جس نے2005ء میں پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکے چھاپے تھے۔امریکی اہلکاروں نے یہ بھی کہا کہ ایک ریٹائر پاکستانی فوجی میجر عبدالرحمٰن ہاشم سید بھی ڈنمارک کے اخبار پر حملے کی سازش میں ملوث تھے۔امریکی استغاثہ کی فرد جرم کے مطابق ہیڈلی نے گزشتہ برس ہونے والے ممبئی حملوں سے قبل دو برس تک بھارت کے دورے کئے اور حملوں کے مقامات کی نشاندہی کی۔انچاس برس کے ہیڈلی نے2006ء میں داؤد گیلانی سے اپنا نام بدل کر ڈیوڈ کولمن ہیڈلی رکھ لیا تھا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ داؤد گیلانی نے نام اس لئے تبدیل کیا تھا تاکہ اس کو بھارت میں خود کو امریکی کے طور پر پیش کر سکیں۔استغاثہ کے مطابق ہیڈلی کے لشکر طیبہ سے روابط تھے اور انہوں نے افغانستان یا پاکستان میں شدت پسندی کی تربیت بھی لی تھی۔