کیا ترکی ایٹمی طاقت ہے؟ “ کالم“ روف عامر پپا بریار


امریکہ کی حکمران صہیونی لابی اور اسرائیل کی تعصب پسند قیادت نیتن یاہو اور مغربی حکمران عرصہ دراز سے ایران کے ایٹمی پروگرام کو دریا برد کرنے کی سیاہ کاری میں ملوث ہیں۔ امریکہ و اسرائیل امہ کی پہلی جوہری طاقت کو اج تک فراموش نہیں کرسکے ۔پاکستان کے جوہری انفراسٹرکچر کو یہود و ہنود نے راندہ درگاہ بنانے کی درجنوں سازشیں کیں مگر سچ تو یہ ہے کہ انکی یہ خواہش ہر دور میں مٹی میں ملتی رہی۔بعین اسی طرح مغرب امریکہ اور اسرائیل ہر قیمت پر تہران کے ایٹمی کارخانوں کو تباہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ مشرق وسطی میں مغربی تھانیدار اسرائیل کی دندناہٹ کو روکنے کی ہمت نہ کرسکے۔تہران کو دستبردار کروانے کے لئے کبھی عالمی اداروں کی معاونت سے معاشی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں تو کبھی حملے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں مگر تہران پچھلی تین دہائیوں سے اپنے اصولی موقف پر ڈٹا ہوا ہے۔اسرائیل اجکل ایران کے جوہری زہر کا تریاق ڈھونڈنے کے لئے در در کی خاک چھان رہا ہے۔صہیونی دادا گیر و وزیراعظم نیتن یاہو نے لبنان کے ہم منصب جارج پاپا ندریو کے ساتھ ماسکو میں ایران کے ایٹمی پلانٹس کے خلاف شور و غل مچا کر تنبیہ کی اگر ایران جوہری طاقت بن گیا تو مڈل ایسٹ میں ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہوجائے گی اور مصر، ترکی، سعودی عرب جوہری ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔نیتن یاہو نے کھسیانی بلی کھمبا نوچے کی یاد تازہ کرتے ہوئے ماتم کیا اگر ترکی جوہری ہتھیار بنانے یا خریدنے میں کامیاب ہوگیا تو پھر اسرائیل کا وجود خطرات کی زد میں ہوگا۔نیتن یاہو سمیت دنیا کے اکثر ملکوں و مسلمانوں کو یہ خبر ہی نہیں کہ ترکی کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کے چند نمونے موجود ہیں جسکی تصدیق یورپ کے زرخیز دانشور >زیوی بار ایل < نے اپنے مکالے > ایران ایٹم بم کے بغیر ج سپرطاقت ہے < میں کی ہے کہ ترکی کے پاس90 تزویراتی ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں جو ناٹو نے ترکی کے اسلحہ ڈپو میں رکھوائے تھے مگر کوئی نہیں جانتا کہ ترکی انکو کیسے استعمال کرے گا؟ سعودی عرب کے پاس ایٹم بم تیار کرنے کے لئے بنیادی الات تک موجود نہیں اور جہاں تک مصر کا مسئلہ ہے تو حقیقت یہ ہے کہ مصر پچھلے 25 سالوں سے اس نقطے پر غور کررہا ہے کہ وہ ایٹمی پلانٹ کہاں سے خریدے اور کس مقام پر پلانٹ تعمیر کرے۔نیتن یاہو لبنانی ہم منصب پاپا ندریو کے سامنے تہران کے جوہری پروگرام کی لغو داستانیں سنا کر انکی حمایت حاصل کرنے کا ڈرامہ کرتے رہے مگر لبنانی پاپاندریو ایک کان سے سنکر دوسرے سے نکالتے رہے ۔ وہ لبنان کے مالیاتی کریش پر افسردہ تھے۔ایران کا ایٹمی بم ابھی منظر عام پر نہیں ایا مگر امریکہ چین کشیدگی کا راونڈ شروع ہوچکا۔امریکہ کہتا ہے کہ چین نے ایران کو ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کی۔امریکہ نے اس ایشو کو بنیاد بناکر ایک طرف تائیوان کو جراثیمی اسلحے کی مد میں لاکھوں ڈالر تھمادئیے تو دوسری طرف اوبامہ نے تبت کے روحانی پالنہار دلائی لامہ سے ملاقات کرکے چینیوں کے جذبات میں زہر گھول دیا ۔ دلائی لامہ کو چین میں غدار و باغی سمجھا جاتا ہے۔تائیوان کو دھڑا دھڑ ہتھیاروں کی ترسیل کرنے والا امریکہ چین کے گرد گھیرا ڈالنے اور بازو مروڑنے کی پلاننگ کررہا ہے۔ یہ خبر بھی کئی روز عالمی میڈیا میں گردش کرتی رہی ہے کہ اوبامہ تہران پر مذید پابندیاں مسلط کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔تاہم یہ خبر قابل بھروسہ نہیں کیونکہ اوبامہ صہیونیوں کی گائیڈ لائن کا مسافر بن چکا ہے اور وہ بش کی جابرانہ پالیسیوں پر جی حضوری کرتا ہے۔ امریکی کانگرس ایران کے تنازعے پر دو حصوں میں تقسیم ہے۔ایک گروپ ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے اور بگڑے ہوئے سفارتی ریلیشن شپ کی بحالی کا حامی ہے تاکہ ایران کابل و بغداد سے امریکی فوجیوں کے انخلا میں مدد گار بن سکے۔کانگرس کا دوسرا دھڑا ایران پر مشرق وسطی میں اپنی بالادستی قائم کرنے کا الزام تھوپتا ہے۔دوسرے گروپ کی رائے ہے کہ تہران ایٹمی بلاوں کے بغیر بھی سپرپاور ہے کیونکہ وہ دوسرے ملکوں کی خارجہ پالیسی پر اثر رکھتا ہے۔ایک ملک دنیا جسکا طواف کرتی ہو بھلا اسے ایٹمی بم کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔احمد نژاد نے کچھ ہفتے قبل یورینیم کی افزودگی کا اعلان کیا تو مغرب میں ہلچل مچ گئی۔زیوی بار ایل لکھتے ہیں کہ رہا یہ سوال کہ کیا تہران ایٹمی بم بنانے کا تہیہ کرچکا ہے؟ کیا تہران کے پاس ایٹم بم بنانے کی سہولیات موجود ہیں؟ اسکا جواب واضح تو موجود نہیں۔دوسری طرف ہیلری کلنٹن کہتی ہیں کہ ایران میں بہت جلد امریت مسلط ہونے والی ہے اور انقلابی گارڈز حکومتی امور پر چھا جائیں گے۔ اب سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تہران کے جوہری خزانے کی چابیاں انقلابی گارڈز کے پاس ہونگی؟ ہیلری کا بیان تعصب سے متسف ہے اور یہ بھی صہیونیت کے پیش اماموں کی طرف سے تہران کے جوہری پروگرام کے خلاف لغویات جھوٹ اور مکر و فریب پر مبنی میڈیا وار کا حصہ ہے تاکہ عراق و افغانستان کی طرح دہشت گردی و ہتھیاروں کا ڈھنڈورہ پیٹ کر ایران کے خلاف عالمی حمایت حاصل کریں اور پھر کسی مناسب وقت پر عسکری حملے کی ترکیب سوجھی جائے۔ ہیلری اپنا زہنی توازن کا علاج کروائیں کیونکہ وہ بھول چکی ہیں کہ ایران کا جوہری پروگرام اعتدال پسند خاتمی کے دور میں پھلا پھولا انقلابی گارڈز تو ایٹمی ہتھیاروں کے مخالف تھے۔ایران کو کوسنا دیا جاتا ہے کہ اس نے اپنے اپکو مغرب کی نظر میں قابل تشویش بنادیا۔یہاں یہ سوال غور طلب ہے کہ اگر تہران خود باعث تشویش ہے تو پھر امریکہ اور مغربی اقدامات پر تہران کو کیا تشویش ہے؟ امریکہ و اسرائیل توقع کرتے ہیں کہ معاشی پابندیوں سے ایرانی انقلابیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونگے اور حکومت کی چولیں ہلا کر رکھ دیں گے مگر ایسی سوچ رکھنے والے کامیاب نہیں ہوسکتے ۔ پابندیوں کی صورت میں ایران کی حکومت مذید مضبوط ہوگی۔ مبصرین کہتے ہیں کہ پابندیاں مسلط کرنے والے بعض اوقات خود نقصان میں رہتے ہیں۔مغرب کو خدشہ ہے کہ اگر پابندیاں لگائی گئیں تو ایران بلیک مارکیٹوں سے خفیہ اسلحہ خریدنے میں ازاد ہوگا۔مغربی تھنک ٹینکس اس سوال پر مغز خوری کررہے ہیں اگر ایران ایٹمی طاقت بن چکا ہے تو اس سے نپٹنے کا طریقہ کیا ہے اورخطے کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کی مہم کا کیا ہوگا ۔مغربی دنیا سمجھتی ہے کہ ایران جوہری قوت بنکر اقوام عالم کے پیچیدہ مسائل کے حل میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکتا۔زیوی بار ایل نے مغرب کو مشورہ دیا ہے کہ تنازعہ ایران کا بہترین حل یہ ہے ایران کو دوبارہ اتحادی بنایا جائے۔ایران کے جوہری پروگرام کو معاشی پابندیوں کے ترازو میں تولنے اور ایرانی قوم کو انقلابیوں کے خلاف استعمال کرنے کی خواہش رکھنے والا امریکہ ہو یا برطانیہ مغرب ہو یا مشرق یواین او ایران کی گردن پر چاقو پھیرے یا ایٹمی توانائی ایجنسی کوئی اداکاری کرے سچ تو یہ ہے کہ ایرانی قوم ایٹمی تنازعے پر مشترکہ اتحاد رکھتی ہے۔ ایرانی نوجوان نسل ایٹمی تحفظ کے لئے خون کا اخری قطرہ تک قربان کرنے کے داعی ہیں۔ بحرف اخر اگر کسی کو ایران کے جوہری ہتھیاروں سے خطرہ ہے تو وہ سب سے پہلے اسرائیل اور امریکہ کے جوہری زخائر کو غتر بود بنوائے۔مسلمانوں کے لئے یہ خبر باعث اطمینان ہے کہ ترکی کے پاس نوے جوہری وار ہیڈز ہیں تاہم انہیں استعمال کرنے کی ٹیکنالوجی طیب اردگان کو میسر نہیں۔اسرائیل بھارت اور امریکہ جوہری معاملات میں تعاون کرسکتے ہیں تو پھر پاکستان اور ایران ترکی مسلمان ہونے کے ناطے جوہری پارٹنر بننے میں کیا رکاوٹ حائل ہے۔ یاد رکھیے صہیونیوں کا مکو ٹھپنے اور گریٹر اسرائیل کی راہ روکنے کے لئے ایک طرف اگر ترکی کو ایٹمی طاقت کا تاج پہنانا لازم ہے تو دوسری طرف ترکی پاکستان اور ایران کا جوہری رومانس بھی ملزوم ہے۔