سپرپاور کا اندام اظہر من التمش “ کالم“ روف عامر پپا بریار


تہذیبیں اقوام عالم کی ان بان شان، شعور زہنی فراست اور اعجاز و افتخار کی طرہ امتیاز ہوتی ہیں۔ مجموعی طور پر تہذیبیں ہی قوموں برادریوں اور ادیان کی فکر و سوچ کی ائینہ دار ہوتی ہیں۔اگر روئے ارض پر تہذبیں نہ ہوتی تو یقین جانئیے کہ دنیا سائنس و ٹیکنالوجی صنعت و حر فت، تعلیم و اگہی کے سے کبھی اشنا نہ ہوسکتی۔ تاریکی کے بعد سویرا لازم ہوا کرتا ہے عروج کے بعد زوال فطرتی عمل ہے۔وجود کائنات سے لیکر اج تک ہزاروں لاکھوں تہذیبوں نے انکھ کھولی۔ شہرت و عروج کی اخری منزلت کے بعد نامی گرامی تہذیبوں کا وجود مٹ گیا۔ جب کوئی تہذیب عروج کی اخری چوٹی کو چھولیتی ہے تو اگلا عمل کانٹ ڈاون کا ہوتا ہے جو زوال کا سبب بنتا ہے۔تہذیب کے وارث بدگمانیوں ، خوش فہمیوں کی چادر اوڑھے رہتے ہیں وہ اعتماد و کروفر کے ساتھ شور مچاتے ہیں کہ ہمارا عروج غیر متزلزل ہے اور ہماری تہذیب کسی طرح بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہیں بن سکتی۔ انہی بلند بانگ خیالات و نظریات میں مگن رہنے والے یہ سمجھنے سے عاری ہوتے ہیں کہ یہی سوچ زوال کی رفتار کو مذید بڑھاوا دیتی ہے۔ کسی دانشورنے ایسی ناعاقبت اندیشی پر کہا تھا>ز ترک گامزن ماد ور نیست<۔دو رحاظرہ میں امریکہ اور مغرب کو تہذیب یافتہ خطہ کہا جاتا ہے۔مغربی میڈیا نے ہی سب سے پہلےclash of civilization >تہذیبوں کا تصادم <کا فلسفہ منکشف کیا تھا۔یہ فلسفہ مائیکل ہنگٹنٹن نے ussrکے بکھرنے کے فوری بعد تراشا تھا۔مائیکل نے مغرب کو وارننگ دی تھی کہ اسلام خطرہ ہے اٍسی لئے مسلم امہ پر ٹوٹ پڑو۔یوں امریکہ نے نو دو گیارہ کے بعد مغربی حلیفوں کے ساتھ ملکر عراق و افغانستان میںتصادم شروع کردیا جو اج بھی جاری و ساری ہے۔ یہ تصادم قابضین کے لئے جان لیوا بن چکا ہے تاہم امریکہ نے ابھی تک غاصبانہ تسلط نہیں چھوڑا جو شکست اور زوال کا حال سنا رہا ہے۔کیا اس وقت تہذیبوں کے فلک بوس پہاڑوں کی چوٹیوں پر بیٹھنے والوں کو پہاڑ کی ترایوں میں کچھ کچھ ترخنے کی اواز سنائی دیتی ہے؟ کیا کوئی ہر شے کو ملیامیٹ کردینے والے زلزلوں کی خفیف اہٹ سن سکتا ہے معلوم نہیں یہ کب شعلہ جوالا بنکر پھٹ جائے اور تہذیب کے تارو پود کو راکھ کردے؟ ماضی پر نظر ڈالی جائے تو قبل از مسیح اور بعد از مسیح میں ہزاروں تہذیبیں اور سپرپاورز طلوع ہوئیں اور پھر ہمیشہ کے لئے ایسے غروب ہوئیں کہ تاریخ کے قبرستان میں انکی قبروں کا نام و نشان تک مٹ گیا مثال کے طور پر بازنطینی تہذیب و سلطنت، افلاطون اور سقراط اور ارسطوکے دور میں یونانی تہذیب سیزر اور نہرو سے منسوب رومن سلطنتیں قابل دید بھی ہیں اور قابل درس بھی۔ انکے علاوہ درجنوں تہذبیں اور طاقتور مملکتیں ظہور پزیر ہوکر نیست و نابود ہوتی رہیں۔ لاس اینجلس ٹائمز میں شائع ہونے والے معروف تاریخ نویس فرگوسن نے اپنی تحقیق بعنوان> تہذیبوں کا انہدام <میں اسی موضوع کے حوالے سے کئی بنیادی سوالات اٹھائے۔ کیا ماضی میں غرقاب ہونے والی تہذیبوں کے پالنہاروں اور تجزیہ نگاروں نے اسباب تلاش کرنے کے لئے ریسرچ کی تھی ؟ کیا کوئی ایسے مدبرانہ فیصلے کئے گئے تھے کہ ڈوبتی کشتی کو کنارے تک پہنچایا جائے؟ تاریخ کا مطالعہ ہمیں مستقبل کی پلاننگ کے لئے زریں ثمرات مہیا کرتا ہے۔ ہم امریکہ کا اس حوالے سے جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ہماری نگاہیں سب سے پہلے مالیاتی تباہ کاریوں پر مرکوز ہوتی ہیں جسکی دو وجوہات ہیں ۔اول۔ جنگی بجٹ دوم۔ چین امریکہ نے دنیا کے کونے کونے میں اپنی افواج تعینات کررکھی ہیں۔بغداد و عراق کی تھکا دینے والی بے مقصد جنگوں نے کھربوں ڈالر پھونک لئے یوں امریکہ کا معاشی نظام کریش ہوگیا وائٹ ہاوس قرضوں پر داد گیری جما رہا ہے۔چین کی طو فانی اقتصادیات نے امریکن فنانس کا بھرکس نکال دیا۔امریکہ کی منڈیوں پر چینی مصنوعات کا راج ہے جو نہایت معیاری مگر کم قیمت ہیں۔نیال فرگوسن لکھتے ہیں کہ امریکہ سے ڈالروں سے بھرے ہوئے کنٹینرز چین جاتے ہیں اور وہاں سے یہی کنٹینرز چینی مصنوعات لاتے ہیں جبکہ چین پہنچنے والے ڈالرز قرضوں کی صورت میں امریکن خزانے میں اجاتے ہیں،امریکہ چین کا صنعتی میدان میں مقابلہ کرنے کی بجائے تائیوان کو اسلحے کے لئے ڈالرز دے رہا ہے۔دنیا میں موسمی تغیرات کے بھاشن دئیے جاتے ہیں تاہم اگلی صدی تک اسکے مضر اثرات کا کوئی امکان نہیں۔مغربی کارخانے اپنی زہریلی گیسوں کے تناظر میں کسی صورت میں مصنوعات کی مقدار کم کرنے پر امادہ نہیں اگر موسمی تفاوت کے نظرئیے کو سچ مان لیا جائے تو اخر امریکی پالیسی ساز اپنی افواج کے پھیلاو کو کس نقطہ نظر سے دیکھیں گے؟ امریکہ افغانستان سے انخلا کا غلغلہ الاپتا ہے تو دوسری طرف فوجی دستوں میں اضافہ کررہا ہے۔امریکہ کو کابل کی دلدل سے نکلنے کے لئے کئی عشرے لگ سکتے ہیں۔ اگر کسی نے برفیلے طوفان کا نظارہ کیا ہو تو یہ بھی دیکھا ہوگا کہ بعض اوقات پورا پہاڑ بکھر جاتا ہے اور پہاڑ کے باسی تودوں میں دفن ہوجاتے ہیں۔کابل کی مشکلات اور متوقع نتائج پر مبصرین کہتے ہیں کہ امریکہ روبہ و زوال ہے اور یہ زوال برفیلے پہاڑوں و طوفانوں کی طرح کسی وقت نازل ہوسکتا ہے؟ سپرپاورز کے تانے بانے نہایت باریک مگر نہایت مضبوطی سے جڑے ہوتے ہیں جنکی نسبت مصری اہراموں کی بجائے دیمک کی پہاڑیوں سے ہوتی ہے۔ دیمک کی پہاڑی کا مشاہدہ کیا جائے تو اندرون میں بے ترتیبی نظر اتی ہے اور یہی انکی ترتیب بھی ہوتی ہے مگر بعض اوقات بے ترتیبی غالب اجاتی ہے اور تب ریت کا زرہ سن نظام کو درہم برہم کردیتا ہے کہ دیمک کا ٹیلہ اپنے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔ فرگوسن نے مملکتوں کے انہدام کا نچوڑ نکالا کہ تاریخ دان انہدام کے اسباب کو زیادہ تر مفروضوں و قیافوں کے ترازو میں تولتے ہیں جو درست نہیں اگر اسباب کا سائنسی انداز سے جائزہ لیں تو نتائج حقیقت پسندانہ ہوتے ہیں۔جنگوں کی تاریخ لکھنے والے جہاںاصل وجوہات کا زکر کرتے ہیں تو وہاں فوری وجوہات پر بھی توجہ دی جاتی ہے کیونکہ انکی تہہ میں دشمنی کی اصل وجوہات پروورش پارہی ہوتی ہیں۔یہاں جنگل کی اگ کا تزکرہ ضروری ہے۔شدید خشک سالی میں تنا شاخیں اور ٹہنیاں سوکھ جاتی ہیں مگر کبھی کبھار ٹوٹنے والی شاخ کی چٹخ سے ننھی چنگاری نکلتی ہے جو جنگل کو بھسم کردیتی ہے۔سپرپاورز کا پیچیدہ نظام جب اندر سے لرز رہا ہوتا ہے تو تب مرکزی اتھارٹی مطمئن ہوتی ہے اور درباری نہرو کی بانسری بجاتے رہتے ہیں۔ فرگوسن نے سپرپاورز کے انہدام کو سمجھنے کے لئے سوویت یونین کی مثال دی ہے ۔ تہذیبوں کے تصادم کا نظریہ ہزاروں سال پہلے وجود میں ایا ہو یا پھر1990 میں مائیکل ہنگٹنٹن نے ایجاد کیا ہو۔ تہذیبوں کے انہدام کا فلسفہ قبل از مسیح سے تعلق رکھتا ہو یا اکیسویں صدی کے نوم چومسکی یا فرگوسن نے اسکا نقارہ بجایا ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا عظیم مملکتوں کے زوال و انہدام میں ہمیشہ مماثلت ہوتی ہے۔سرمایاداریت واستعماریت کے علمبردار ہمیشہ برٖفیلے طوفان اور جنگل کی اگ کی طرح کی طرح منہدم ہوجایا کرتے ہیں۔ دور حاظر کے انہدام کی تصدیق روسی مصنف دمتری اور لوف نے اپنی کتابrevolving collapse میں کی ہے۔دمتری کے مطابق امریکہ کو وہی خطرات ہیں جو USSR کو لے ڈوبے۔سوویت یونین نے اخری ہچکی گورباچوف کی گود میں لی تھی تاہم موجودہ انہدام کا اتنے باوقار انداز میں وقوع پزیر ہونا ناممکن ہے۔ امریکی احباب اور تجزیہ نگاروں کو فرگوسن کے محولہ بالہ تجزیات پر غور تو کرنا چاہیے۔