ملکی ترقی میں نوجوانوں کا کردار ‘‘ کالم ‘‘ محمد عمر ریاض عباسی

نوجوان کسی بھی ملک و قوم کا حقیقی سرمایہ اور اثاثہ ہوتے ہیں۔قوموں کی تاریخ میں نوجوان نسل کا کردار نہ صرف مثالی رہا ہے بلکہ ملکوں کی ترقی میں نوجوان ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر نوجوان کے ملکی تعمیرو ترقی میں کردار کے حوالے سے نگاہ دوڑائی جائے تو اس ضمن میں حکم الامت علامہ محمد اقبال کے افکار اس کی بھر پور غماضی کرتے ہیں۔ علامہ محمد اقبال جنہیں بجا طور پر اُمتِ مسلمہ کا معمار کہا جاسکتا ہے آپ کی فکر کاعمیق مطالعہ کرنے سے چند علمی گوشے ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔ اقبال نے مسلمان قوم کو ایک فکر سے آشناکیا۔ جب قوم اپنے بدترین اور ہمہ جہت دوِر زوال و انحطاط سے گزرہی تھی۔ قوم نے اپنی سو چ اورفکر کا مرکزو محور عیش و عشرت اور جاہ و منصب کو تصور کر لیاتھا ۔ یہی وجہ تھی کہ قوم تسائل پسندی ، غربت و افلاس ، یاس و قنوطیت ، جہالت اور پسماندگی کی دلدل میں دھنسی جارہی تھی۔ نوجوان شباب وکباب کا دلدداہ اور قص و سرود کی محافل کی زینت بننے لگا تھا۔ قوموں کی تاریخ میںمسیحاؤں کا ذکر ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ، مسیحاوہ افراد ہوتے ہیں جو قوموں کو شعوروآگہی، فکرو ادراک اور تحقیق وعلم کے زیور سے آراستہ کرتے ہیں یہ مسیحا قوموں کی ڈوبتی ہوئی ناؤ کو ساحلِمراد تک لے جانے کے لئے ا س کوفکر کی ایک کشتی عطا کرتے ہیں جو وقت کی ہر آندھی اور موج سے ٹکرانے کے بعد باحفاظت اپنی منزل کو چھولیتی ہے ڈیڑھ صدی قبل مسلمانان برصغیر کو بالخصوص اور ملت اسلامیہ کو بالعموم وہ درخشندہ ستارہ ملا جس کی فکر کی ضوفشانیاں چہار دانگِ عالم اپنی کرنوں کو بچھائے ہوئے ہیں اس روشن ستارے کو علامہ محمد اقبال کہا جاتا ہے اقبال نے پاکستان کے قیام کی پہلی اینٹ رکھی اور اپنے کلام کے ذریعے مسلمانوں کو ولولہ اور جذبہ عطا کیا۔اقبال کے نزدیک نوجوان کسی بھی ملک اور قوم کا بیش بہا خزانہ اور اثاثہ ہوتے ہیں۔مستقبل کی قیادت نوجوان نسل کے ہاتھوں میں ہو گی۔لہٰذا میری نوجوانوں سے یہی اپیل ہے کہ علم کے نور سے جہالت،ناانصافی،دہشتگردی اور ظلم کا خاتمہ کر کے دنیا کو امن کا گہوارہ بنائیں۔ نوجوان ٹیلنٹ سامنے آئے اور نئی فکر اورتازہ ذہن کے ذریعے جیو اور جینے دو کا علم بلند کرے گویاعلامہ اقبال نے نوجوان کی نبض پر ہاتھ کو تراس کے مرض کی شخصیص کی اور اسے لاحق بیماری کا علاج بھی دریافت اور فرمایا
کبھی اے نوجوان مسلم تدبر بھی کیا تونے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے ایک ٹوٹاہو تارا۔
گویا اقبال نے نوجوان نسل کو قوم اور ملت کا سرمایہ قراردے کر اسے سائنس اور ٹیکنالوجی کے تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کی تلقین کی اور فرمایہ
محبت مجھے اُن جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
آج ملکِپاکستان کی تعمیر و ترقی میں بھی نوجوان نسل کاکردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اگر آبادی اور ترقی کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہر دو محازوں پر پاکستانی نوجوان نے ایک عزم اور جہدِمسلسل کا عملی تصور پیش کیا ہے۔ قیامِ پاکستان کی تحریک میں بھی نوجوان نے ہر اول ستے کا کردار ادا کیا ہے اور بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا عملی دست و بازو بن کر قوم کے ہرفرد کے شانہ بشانہ چل کر وطن عزیز کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا۔ قائداعظم محمد علی جناح نوجوانوں کو ملک کی حقیقی قیادت کے روپ میں دیکھے تھے جس کا تصور آپ کے ’’کام، کام اور صرف کام‘‘ کے نعرے سے ملتاہے۔ پاکستان کی موجودہ آبادی کے تناسب کے اعتبار سے 56ملین بچے 15سال کی عمر سے نیچے ہیں۔ اسی طرح15ملین نوجوان 15سے 19سال کی عمر کے درمیان ہیں اور 12ملین نوجوان 20سے 24سال کی عمر کے درمیان ہیں۔ 1998ء کی مردم شماری کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کی کُل آباد کا 62ملین صرف نوجوان نسل پر مشتمل ہے۔ پاکستان انسیٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی17کروڑ آبادی میں سے 2کروڑ افراد نوجوان ہیں جس سے اس بات کا بخوبی انداز ہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں نوجوان افرادی قوت کاایک خاصا بڑا حصہ موجود ہے جس کے شعور کی بیداری ، تعلیم کی ضرورت کی فراہمی، انصاف اور جدید تقاضوں سیہم آہنگی پیدا کرکے آبادی اور ترقی میں نوجوان نسل کے کردار کو مذید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ نوجوان نسل کو غربت کے خاتمے اور تعلیم کی افادیت کے حوالے سے خصوصی ٹاسک دے کر ملک کو ترقی اور خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے۔ موجودہ عوامی حکومت نے نوجوان نسل کی خوابیدہ صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے اور انہیں قومی دھارے میں شامل کرکے مذید موثر بنانے کیلئے بڑے احسن اور بنیادی اقدامات کیے ہیں جن کی مدد سے پاکستان کو دنیا میں ایک باوقار اور خوشحال ملک کے روپ میں پیش کیا جاسکتا ہے۔پاکستان نے ترقی کے فروغ اور آبادی کی بہبود کے حوالے سے عالمی سطح پر نوجوانوں کی ہی وجہ سے اپنا لوہا منوایا ہے۔ اگر کھیلوں کے میدان کی بات کی جائے تو ایک طویل عرصے تک اسکواش کے کورٹس میں جان شیر خان اور جہانگیر خان کا نام گوبجتا رہا۔ اسی طرح1992سے 1994کے دوران پاکستان اپنے قابلِفخر سپوتوں کی بدولت کرکٹ ، ہاکی ، سنوکر اور سکوائش کا عالمی چمپین تھا۔
بقول شاعر
۔’’ جس سمت آگئے ہو سکے جما دیے ہیں‘‘
اگر ترقی کی بات کی جائے تو پاکستانی نوجوان کمپیوٹر سافٹ وئیر کے میدان میں نت نئی تھیوریز پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر سولر انرجی سے استفادے کی بات کی جائے تو یہی نوجوان جدید فارمولے وضع کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر تعلیم کی بات کی جائے تو ہمارا نوجوان علی معین نوازش اے لیول کے امتحان میں فزکس، کیمسٹری اور ریاضی میں امتیازی نمبر لے کر پوری دنیا کو ورطہِ حیرت میں مبتلا کرتا دکھائی دیتا ہے
بقول شاعر
کبھی ہوتی جو مرتب ترقی کی تاریخ
لکھیں گے قومیں صفحہ اوّل پہ نام تیرا

پاکستان چونکہ بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اس کے دیہی علاقے اور آبادی کا ملکی معیشت میں بڑا کلیدی کردار ہے۔ زراعت کا شعبہ معیشت کے حوالے سے سب سے بڑا جز و کہلاتا ہے۔ زرعی شعبہ ملک کے کل جی۔ڈی۔ پی کا 25فیصد حصہ دے رہا ہے اور برآمد ات کی کل قیمت کا 70فیصد بھی مہیا کر تا ہے۔ زرعی شعبہ میں17ملین افرادی قوت کا م کررہی ہے جو کہ ملک کی افرادی قوت کا 44فیصد بناتا ہے۔ پاکستان کی تقریباً 67فیصد آبادی دیہات میںآباد ہے اور اس آبادی میں بسنے والے نوجوان کا تناسب42فیصد ہے۔ نوجوان افرادی قوت کو جدید تعلیم کے خطوط پر اُستوار کرکے انہیں بہود اور ترقی کے دھارے میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان چونکہ اس وقت انتہائی نازک اور بھیانک دور سے گزرہا ہے۔ انتہاپسندی اور دہشت گردی کا عفریت مسلسل زہر اُگلتا جارہا ہے۔قدرت نے ہمیں چار مختلف موسم ، زرعی زمین، کوئلے ، گیس اور معدنی ذخائر کی دولت کی فروانی سے مزین کیا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان کے قومی ترقی اور بہود میں کردار کو مذید وسعت دی جائے تاکہ پاکستان ترقی یافتہ اور خوشحال ممالک کی صف میں نمایاں مقام حاصل کر سکے۔۱۸فروری2008؁ء کے عام انتخابات میں پاکستان کے نوجوان نے آمریت کی مسلط کردہ سیاہ رات کی تاریکی کو اپنے حقِ رائے دہی کے ذریعے کچلتے ہوئے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے جمہوریت کا خالص بیج بویا ۔ اس بیج نے آج موجودہ حکومت کی نوجوان دوست پالیسیوں کی بدولت ایک نوخیزکلی کا روپ دھار لیا ہے۔ ضرورت اس مر کی ہے کہ جمہوریت کی نوخیزکلی کو پنپنے کا موقع فراہم کی جائے تاکہ شہید زوالفقار علی بھٹو کے مشن کی تکمیل ہوسکے اور پاکستان کا نوجوان بہود اور ترقی میں جمہوریت کے سائے تلے اپنا قومی و مّلی فریضہ سرانجام
دے سکے۔ اس عزم کے ساتھ کہ
جب اپنا قافلہ عزم و یقین سے نکلے گا۔
جہاں سے چاہیں گے راستہ وہیں سے نکلے گا
وطن کی مجھے ایڑیاں رگڑنے دے
مجھے یقین ہے کہ چشمہ یہیں سے نکلے گا۔

ذہانت اور فطانت اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ وہ صلاحیتیں ہیں جن کی بدولت انسان کے خوابیدہ افکار و خیالات اجاگر ہوتے ہیں اور معاشرتی و سماجی اعتبار سے انسان ترقی کی منازل طے کرتا چلا جاتا ہے۔جہدِ مسلسل،عزمِ مصمم انسان کو عزم و ارادے کی پختگی عطا کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں اپنانام اور مقام پیداکرنے والی شخصیات اپنی کم عمری میں کمالات کے جوہر بکھیرنا شروع کر دیتی ہیں۔آج کے مادیت زدہ دور میں ملکِ پاکستان کو علم و تحقیق اورفکر و آگہی کے میدانوں کے شہسواروں کی ضرورت ہے جو اس ملک کی مستقبل کی قیادت سنبھال کر دنیائے تحقیق میں سطوتوں کے علم بلند کریں تاکہ یہ ملک خوبصورت عنوانات کا ایسا گلدستہ بن سکے جس کی خوشبو سے ہر فرد معطر ہو اور یہ خوشبو پاکستان کے کونے کونے میں پھیل جائے۔ملک و قوم کے اصل دشمن جہالت،بے راہ روی،عدمِ برداشت اورانا ہیں جن کو جڑوں سے اکھاڑ کر شائستگی،تہذیب اور یگانگت کے بیج بونے ہوں گے تب جا کر فصل میں عدل اور امن کا ذائقہ محسوس ہو گا۔ایسی ملاقاتیں جاری رہنی چاہییں اسی میں ہماری ملی وحدت اور استحکام کے خزانے پوشیدہ ہیں۔اس وقت نصابِ تعلیم میں ترامیم کر کے صوفیائے کرام،اولیائے کرام اور مفکرین کے افکار و نظریات کو شامل کیاجائے تاکہ نوجوان نسل صوفیاء کی امن و محبت کی تعلیمات سے مستفید ہونے کے ساتھ ساتھ گلی گلی محلے صدائے امن و محبت کو عام کرے۔میرٹ کو یقینی بنا کر گراس روٹ لیول پر منجمد ٹیلنٹ کو قومی ترقی کے دھارے میں شامل کیا جائے تاکہ احساسِ محرومی بھی ختم ہو اورمساوات کی اقدار کی عملی عکاسی ہو سکے۔قومیں اتحاد،انصاف اور بردباری سے اپنا مقام پیدا کرتی ہیں نہ کہ عسکریت پسندی اور جہالت سے۔تعلیمی نصاب موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں،اس وقت ہم ٹیکنیشن پیدا کررہے ہیں جو تقریباً بین الاقوامی معیار کے ہیں لیکن پاکستان کو مفکرین کی ضرورت ہے جو تخلیق اورایجادات کرسکیں،ہمارے ہاں طبقاتی نظام تعلیم نے معاشرتی تفریق پیدا کردی ہے۔ اگر نظام تعلیم یکساں نہ ہو توسماجی اقدار پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ابھی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی شاہراہ پر چل رہے ہیں لیکن منزل ابھی بہت دور ہے ہمیں ابھی لمبا سفر طے کر کے دنیا کے مقابلے میں کھڑا ہوناہے، ہماری افرادی قوت اس شعبے میں بہت کم ہے اور عالمی لیول پر بھی ہم بہت نیچے ہیں۔ ہندوستان کی ’’سافٹ وئیر نڈسٹری‘‘ بہت اوپر جارہی ہے،اس وقت ہندوستان کے پاس ہم سے زیادہ ’’نمبرز آف گریجویٹس‘‘ ہیں جو(آئی ٹی)کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں۔ہماری لیبارٹریز ورلڈ کلاس کی ہوں اور ہم اپنے نوجوان کے ٹیلنٹ کو پالش کریں تو زیادہ بہتر ہے۔ ہمیں اپنی قومی تعلیمی پالیسی کو واضح کرنا ہو گا اور ہمارا تعلیمی منصوبہ (ویل ڈیزائن)ہونا چاہئے ہمیں صرف ہنر مند افراد کی ضرورت ہے جو ہمارے نوجوان کو سکھا سکیں۔ ہمارے نوجوان میں(سیکل)بھی ہے اور ٹیلنٹ بھی ہے صرف اس کی خوابیدہ صلاحیتوں کواجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ تعلیم ایک ایسا ہتھیار اور اسلحہ ہے جو اپنی حفاظت خود کرتا ہے۔ تعلیم ہی مضبوط معیشت اور خوشحال پاکستان کی واحد ضمانت ہے۔ تعلیم سے ہی ہم بیروزگاری،دہشت گردی اور ناانصافی کا خاتمہ کرسکتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ تعلیم کو ترجیحی بنیادوں پر آگے لا کر ہنر مند افراد تیار کیے جائیں۔آبادی اور بہبود میں نوجوان کے کردار کو مثالی بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔نوجوان ملک و قوم کی ترقی کا عزم لئے اس عہد کے ساتھ رواں دواں ہے کہ
تجھ سے اے پاک وطن ہے یہ ہمارا وعدہ
جہالت کی جیت کے سامان نہ ہونے دیں گے
کر کے چھوڑیں گے اسے خونِ جگر سے شاداب
تیرا گلشن کبھی ویران نہ ہونے دیں گے

4 تبصرے “ملکی ترقی میں نوجوانوں کا کردار ‘‘ کالم ‘‘ محمد عمر ریاض عباسی

  1. excellent column by mr abbasi.congrats to chied editor for publishing such knowlegable and research article on the role of youth.carry on abbasi sahib.

  2. thats great ,a thought provking article may ALLAH give our govts courrage and will to utilize the youth in different areas so that they may become an asset and hail to PM shabaz shreef who is providing the agri-graduates acers of land for stating ventures Good abbasi sahibkeep it up

تبصرے بند ہیں