عالمی برادری سے بحری جہاز’’ امید ‘‘کی مدد کی ھنگامی اپیل

غزہ ‘ فلسطینی بین الاقوامی مہم نے غزہ مقامی تنظیموں کے نیٹ ورک، عالمی برادری اور بالخصوص اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے غزہ کا محاصرہ ختم کرنے اور محصورین غزہ کے لیے امدادی سامان لیکر آنے والے لیبیا کے بحری جہاز امید کی فی الفور مدد کی اپیل کی ہے۔ بارہا دھمکیوں کے بعد اسرائیل نے اس جہاز کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور پچھلے ایک روز سے اس کے تمام ذرائع مواصلات بھی منجمد کر دیے ہیں تاہم ان تمام رکاوٹوں کے علی الرغم جہاز نے غزہ کی جانب اپنا سفر ترک نہیں کیا۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مہم نے اپنے بیان میں کہا کہ اس جہاز کی مدد کرنے اور اس کو بحفاظت غزہ تک پہنچانے کی ساری ذمہ داری، بالخصوص جب یہ عام انسانوں کی مدد کی مہم پر روانہ ہے اور عالمی قوانین کے مطابق انسانی بنیادی ضروریات کا سامان اپنے ہمراہ غزہ لا رہا ہے، عالمی برادری اور عالمی تنظیموں پر عائد ہوتی ہے۔فلسطینی مہم نے امیدپر سوار سرگرم کارکنوں کے صہیونی دھمکیوں اور جہاز کے اسرائیلی محاصرے کے باوجود بہرصورت غزہ پہنچنے کے عزم کو خراج تحسین پیش کیااس موقع پر مہم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 31 مئی کو غزہ کی جانب گامزن امدادی بحری قافلے فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی بربریت کی تحقیقات کے لیے ایک عالمی کمیٹی تشکیل دی جائے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ محاصرہ توڑنے کے لیے آنے والے بحری جہازوں پر اسرائیلی حملوں کی وجہ سے یہ تحریک مزید زور پکڑے گی اور رضا کار مزید قافلے اور جہاز غزہ بھیجنے پر آمادہ ہوتے جائیں گے