قومی ٹیم کی کامیابی کا زیادہ انحصار نوجوان کھلاڑیوں پر نہ کیا جائے ، وسیم اکرم

شعیب ملک کو ٹیم سے ڈراپ کر کے شاہد آفریدی نے جرات مندانہ فیصلہ کیا ہے
نئی دہلی ۔پاکستان کے سابق کپتان اور ماضی کے عظیم باؤلر وسیم اکرم نے انگلینڈ دورے کے لئے ٹیم کو بہترین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے کرکٹ ذمہ داران کو ٹیم کے نوجوان کھلاڑیوں پر زیاہ انحصار نہیں کرنا چاہئے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے شاہد آفریدی کے ذریعے ٹیم سے شعیب ملک کو ڈراپ کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے ۔ وسیم اکرم نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ انگلینڈ کے نامساعد حالات میں کھیلنا آسان نہیں ہوتا ۔ اس کے لئے کھلاڑیوں کو اچھی تکنیک اور تجربہ بروئے کار لانے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ یہاں سوئنگ گیندوں کو تیز تکنیک کے ساتھ ہی کھیلا جا سکتا ہے ۔ سابق کپتان نے کہا ہے کہ شاہد آفریدی نے شعیب ملک جیسے سینئر بلے باز کو ڈراپ کر کے جرات مندانہ فیصلہ کیا ہے ۔ اس سے ان کے پختہ ارادوں کا پتہ چلتا ہے ۔ انہوںنے آفریدی کی شاندار صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہئے کہ وہ کپتان کو پورا موقع اور اختیارات دے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کا مستقبل اچھا دکھائی دے رہا ہے ۔ ٹیم ایشیا کپ نہیں جیت سکی لیکن آفریدی نے ٹیم کی اچھی قیادت کر کے مثال قائم کر دی ۔ اس وقت سب سے اہم بات ہے کہ ٹیم انتظامیہ نے کھلاڑیوں کو موقع دے رہی ہے ۔ اور انہیں بھی پورا موقع ملنا چاہئے ۔ ایک سال میں کپتان شاہد آفریدی بھی سیٹ ہو جائیں گے اور نئے کھلاڑی بھی اپنی جگہ پکی کر لیں گے ۔ نوجوان کھلاڑیوں کو جو آٹھ ماہ کا موقع مل جائے گا وہ کئی سینئر کلاڑیوں کی جگہ لے سکتے ہیں ۔ ایک سال میں نئے لڑکے سینئر کی جگہ لیں گے اور پاکستانی ٹیم کی فیلڈنگ کا معیار خوبخود بہتر ہوتا جائے گا ۔ وسیم اکرم نے کہا کہ محمد عامر ایک خصوصی صلاحیت والے تیز گیند باز ہیں ۔ 18 سال کی عمر میں اتنا ٹیلنٹ مجھ میں بھی نہیں تھا ۔ عامر ہر میچ کے بعد اصلاح کر رہے ہیں اور مجھے یہ مستقبل کے بڑے باؤلر دکھائی دے رہے ہیں ۔ پی سی بی کی اس لحاظ سے تعریف کرنی چاہئے کہ وہ کھلاڑیوں کو انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کا موقع دے رہے ہیں ۔ انٹرنیشنل کرکٹ ملنے سے کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں منوانے کا بھرپور موقع ملے گا ۔