حکومت اور عدلیہ کے درمیان تصادم کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے ۔اعجاز الحق

دہشت گردی کے خلاف خود مختار پالیسی تشکیل دی جائے
مسلم لیگ ضیاء کے سربراہ کی ہمایوں اختر و مخدوم سید احمد محمود کے ہمراہ پریس کانفرنس
لاہور۔مسلم لیگ ضیاء گروپ کے سر براہ اعجاز الحق نے کہا ہے کہ ملک میں حکومت اور عدلیہ کے درمیان تصادم کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے ۔دہشت گردی کے خلاف خود مختار پالیسی تشکیل دی جائے ۔ حکمرانوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو عوام ملک کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیں گے ملک میں اقتصادی بحران آنے والا ہے ویٹ نافذ نہ کرنے کی صورت میں امریکہ ، آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک اور ایشین ڈیویلپمنٹ بینک نے پاکستان کو قرضے نہ دینے کی دھمکی دی ہے بجلی مہنگی ہونے کے باوجود نہیں مل رہی صرف پنجاب بجلی کا بل دیتا ہے کے ایس سی اور دوسرے اداروں کی صورتحال سب کے سامنے ہے ان خیالات کا اعجاز الحق سے مسلم لیگوں کے اتحاد کے حوالے سے اجلاس کے بعد مسلم لیگ (ق) ہم خیال گروپ کے رہنما ہمایوں اختر خان اور مسلم لیگ فنکشنل پنجاب کے صدر مخدوم سید احمد محمود کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا ۔انھوں نے کہا کہ وہ تمام مسلم لیگوں کو اکٹھا دیکھنا چاہتے ہیں یہ وقت ملک کو بچانے کا ہے سیاست کرنے کا نہیں۔اعجاز الحق نے کہا کہ مسلم لیگیں نئے صوبوں کے قیام کی حمایت لسانی بنیادوں پر نہیں کریں گئیں بلکہ یہ حمایت تنظیمی بنیادوں پر ہو گی ۔ مسلم لیگوں کا اتحاد دلوں کو جوڑنے کے لیے ہے نہ کہ توڑنے کے لیے انھوں نے کہا کہ ملک میں حکومت اور عدلیہ کے درمیان تصادم ہونے جا رہا ہے اور میڈیا کے خلاف پنجاب اسمبلی کی قرار داد کی مذمت کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ماضی کی باتوں کو بھلا کر آگے بڑھنا ہو گا ۔ جعلی ڈگری والوں نے پوری قوم کو دھوکا دیا تمام جماعتیں اس کا نوٹس لیں اور جعلی ڈگری والوں پر تا حیات پابندی لگائیں جن لوگوں ملک کو لوٹا اور قرضے معاف کراے اور جن لوگوں کے اثاثے ملک سے باہر ہیں ان پر بھی پابندی لگنی چاہیے تاکہ پاکستان کی سیاست پاک صاف ہو سکے سیاسی جماعتیں قرضے معاف کرانے والوں اور جعلی ڈگری والوں کے خلاف نوٹس لیں اور ان پر تا حیات پابندی لگائیں ، چاہتے ہیں حکومت اپنی مدت پوری کرے لیکن معاملات چلتے نظر نہیں آ رہے اور اﷲ کرے مڈ ٹرم انتخابات ہو جائیں ۔ انھوں نے کہا کہ بجلی مہنگی ہونے کے باوجود نہیں مل رہی صرف پنجاب بجلی کے بل دے رہا ہے ملک میں مستقبل میں اقتصادی بحران آنے والا ہے ۔انھوں نے کہا کہ امریکہ اور دیگر امدادی اداروں نے بتا دیا ہے کہ اگر ویٹ کا نفاذ نہ کیا گیا تو وہ کوئی پیسہ پاکستان کو نہیں دیں گے ۔ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف خود مختار اور آزاد پالیسی بنانے کی ضرورت ہے ۔ آزاد خارجہ پالیسی اور آزاد اقتصادی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے ۔ قومی مسائل پر تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے ۔ انھوں نے کہا کہ جو ملک کی موجودہ صورتحال ہے اس میں وہ ملک کو لوٹنا اوراس کو نقصان ہوتا نہیں دیکھ سکتے اگر حکمران ہو ش کے ناخن نہیں لیں گے تو عوام ملک کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیں گے ۔