حد سرقہ (شریعت اسلامیہ میں چوری کی سزا) “کالم“ ڈاکٹرساجد خاکوانی

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

دولت کی حرص و حوس ابتداسے ہی انسانی معاشرے کا حصہ ہے ،اس کے لیے انسان جائزوناجائزتمام وسائل اختیارکرنے کی کوشش کرتاہے شایداسی لیے دولت جمع کرنے کی مذمت میںقرآن مجید نے بہت سی آیات میں سخت تنبیہات فرمائی ہیں۔دولت کے حصول کی خواہش بعض اوقات انسان کوایسے راستوں پر ڈال دیتی ہے جہاںوہ اپنی حیثیت اور اپنے مقام سے بڑھ کرایسے کام کر بیٹھتاہے جوقانون واخلاقیات میں جرم کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔انسان سوچتاہے کہ دولت جمع ہوجانے سے اس کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے،کل مشکلات آسان ہو جائیں گی اور ہرقسم کی پریشانیوں کا مداوا ممکن ہوسکے گا،دنیاکے پیمانوں میں اگرچہ کسی حد تک یہ بات درست بھی ہے لیکن حقیقت یہ ہے دولت بہت سی قباحتیں بھی اپنے ہمراہ لاتی ہے اوربعض اوقات تو دولت کی دراندازی سے انسان کا کل امن و سکون غارت ہو جاتاہے اورانسانی معاشرہ دولت کی پوجا میں ایسی دوڑ کے اندرشریک ہو جاتاہے جو انسان کی موت کے بعد بھی ختم نہیں ہوتی اوربالآخر جہنم کا گڑھااس کامقدر بنتاہے ۔دولت کی پیاس ختم کرنے کاایک ناجائز ذریعہ ’’چوری‘‘ بھی ہے جس میں انسان دوسرے کے مال کو اپنی ملکیت میں لینے کی قبیح حرکت کرتاہے،اس عمل کو کل آسمانی مذاہب نے جرم گرداناہے ۔

شریعت اسلامیہ میں چوری کے عمل کو’’سرقہ‘‘کانام دیاگیاہے اوراسکی سزاخود قرآن مجید نے مقررکی ہے جو بطور حق اﷲ تعالی نافذکی جاتی ہے جبکہ ایسی سزاؤں کو ’’حدوداﷲ ‘‘کی اصطلاح سے یاد کیا جاتاہے۔اﷲ تعالی نے قرآن مجید کی سورۃ المائدہ آیت نمبر38,39میں فرمایاکہ’’اور چور خواہ مرد ہویاعورت دونوں کے ہاتھ کاٹ دو،یہ ا ن کی کمائی کا بدلہ ہے اوراﷲتعالی کی طرف سے عبرت ناک سزا۔اﷲ تعالی کی قدرت سب پر غالب ہے اوروہ دانا و بیناہے۔پھرجو ظلم کرنے کے بعد توبہ کرے اور اپنی اصلاح کرلے تواﷲ تعالی کی نظر عنایت پھراس پر مائل ہو جائے گی،اﷲ تعالی بہت درگزرکرنے والااور رحم فرمانے والا ہے‘‘۔ان آیات میں اﷲ تعالی نے جہاںچوری کے خلاف اپنے شدید غصے کا اور غضب کااظہار کیا ہے وہاں چوراور چورنی کے لیے سزاکابھی اعلان کیاہے۔اس کے علاوہ بھی سورۃ ممتحنہ آیت 12میں اﷲ تعالی نے فرمایا کہ’’اے نبی جب آپ کے پاس مومن عورتیں بیعت کے لیے آئیں اور اس بات کا عہد کریں کہ وہ اﷲ تعالی کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی۔چوری نہ کریں گی،زنانہ کریں گی،اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی ،اپنے ہاتھ پاؤں کے آگے کوئی بہتان گھڑ کرنہ لائیں گی اور کسی امر معروف میں تمہاری نافرمانی نہ کریں گی،توان سے بیعت لے لو اور ان کے حق میں دعائے مغفرت کرویقیناً اﷲ تعالی درگزرفرمانے والااور رحم کرنے والا ہے‘‘۔گزشتہ شریعتوں میں بھی چوری قابل سزا جرم رہاہے چنانچہ سورۃ یوسف میں اﷲ تعالی نے بتایاکہ حضرت یوسف علیہ السلام کی شریعت میں چور جس کی چوری کرتاتھاپھراسکی غلامی کرتاتھا۔

اسلامی شریعت میں ’’کسی کاقیمتی مال حرز سے نکال کر لے جانا بغیر کسی حق ملکیت یا اسکے شبہ کے سرقہ کہلاتاہے‘‘اور سرقہ کرنے والے کا دایاںہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے۔چوری کے مال کی کم سے کم مالیت ’’نصاب‘‘کہلاتی ہے،چنانچہ نصاب کے بقدر یااس سے زائد مال کی چوری ہو گی تو حد سرقہ کی پہلی شرط پوری ہو جائے گی۔چوری کے مال کا قیمتی ہونا ضروری ہے مختلف فقہاء کے ہاں اس کی مختلف قیمتیں متعین کی گئیں ہیں تاہم کم از کم دس درہم پر جمہور علماء کااتفاق ہے۔حضرت عمر سے ایک قول مروی ہے کہ اگر چوری چوتھائی دینار کے برابر ہو تو اس پر حد جاری ہو گی،دوسری روایت میں پانچ درہم کی قیمت بھی بیان کی گئی ہے۔حضرت انس رضی اﷲ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اﷲ اور حضرات ابوبکروعمرکے زمانے میں ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹاجاتاتھا،پوچھاکہ ڈھال کی کیاقیمت ہواکرتی تھی تو حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ نے جواب دیا کہ پانچ درہم۔ایک اورروایت ہے کہ ایک چور نے کپڑاچرایاتوامیرالمومنین حضرت عمر نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیاجس پر اعتراض کیا گیاکہ اس کپڑے کی مالیت دس درہم سے کم ہے چنانچہ حضرت عثمان سے کہاگیاکہ اس کپڑے کی مالیت کااندازہ لگائیںجوآٹھ درہم بتایاگیا،اس پر حضرت عمر نے ہاتھ کاٹنے کاحکم واپس لے لیا۔اسلامی شریعت کاایک مصدقہ اصول ہے کہ بعد والا حکم ناسخ ہوتاہے اور پہلے والے فیصلے کو منسوخ کردیتاہے چنانچہ نصاب کے بارے میں اگر چہ بہت سے اقوال ہیں لیکن دس درہم پر اکثریت کااتفاق ہے کیونکہ خلافت راشدہ کے آخری زمانے میں اسی پر تعامل رہا۔دس درہم کی فی زمانہ جو قیمت ہو گی وہ وقت کے لحاظ سے اس زمانے میں چوری کا نصاب ہواکرے گی۔

’’حرز‘‘حد سرقہ کی دوسری شرط ہے۔’’حرز‘‘سے مراد وہ کم سے کم انتظامات ہیں جو مال کی حفاظت کے لیے کیے گئے ہوں۔بغیر کسی حفاظتی تحویل کے موجود مال یا سازوسامان کے ہتھیالینے پر حدسرقہ جاری نہیں کی جائے گی۔حرزکاتعین عرف و رواج کے مطابق ہوگاکیونکہ دیہاتوں میں معمولی اور چھوٹی دیوار کوبھی ملکیت کے ثبوت کے لیے کافی سمجھاجاتاہے جبکہ شہروں میں اس سے زیادہ انتظام کی ضرورت ہوتی ہے،جانور کو باندھنا اور دیگر سواریوں کو تالا لگاناحرز ہوتاہے، بصورت دیگر سازوسامان اور مال کو لاوارث سمجھ لیاجاتاہے۔مکان کی چار دیواری حرز ہے اور اس سے مال نکال کر لے جانا سرقہ کی ذیل میں آتاہے،کھونٹے سے بندھی ہوئی کشتی اور جانوراورتالالگی سواری بھی حرز کے اندر شمار ہوں گے اور انہیں کھول کر لے جانے والا سرقہ کا مرتکب سمجھا جائے گا۔مالک کی نظر میں موجود شے بھی حرز میں سمجھی جاتی ہے جیسے ایک شخص کی سواری گھاس چررہی ہواور کسی کھونٹے سے بندھی نہ ہولیکن مالک نے اس پر نظر رکھی ہوتواس سواری کو لے جانے والا حد سرقہ کامرتکب سمجھاجائے گا۔سونے والے کے نیچے دبی ہوئی چیز بھی حرز میں ہوگی لیکن قبر حرز نہیں ہو گی اور کفن نکالنے والا حد سرقہ کی ذیل میںنہیں آئے گاکیونکہ مردہ مالک بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔پس یہ سمجھ لینا چاہیے کہ کھلے ہوئے جانور،کھلی ہوئی سواریاں اورعام سڑکوں،چوراہوںاورویرانوں پر موجود سازوسامان و مال و اسباب پرناجائزقبضہ کرنے والے حد سرقہ کے اگرچہ مرتکب نہیں ہوں گے تاہم انہیں کوئی تعزیر دی جا سکے گی جوحد سرقہ یعنی ہاتھ کاٹنے سے شدید تر بھی ہو سکتی ہے۔

شور مچانے پراگرچورسامان چھوڑ کر بھاگ جائے توفبہااور اگر مزاحمت کرے تواس کے خلاف جوابی کاروائی کرنا جائز ہے ۔حضرت عمر سے ایک قول منقول ہے کہ چور کو خوفزدہ کرو مگرپکڑو نہیں۔حضرت عمرہی کے زمانے میں حاطب بن ابی بلتعہ اپنے غلاموں کو کھانے کو نہیں دیتے تھے جس پر ان غلاموں نے ایک شخص کی اونٹنی ذبح کر کے کھالی،حضرت عمر نے غلاموں کے ہاتھ کاٹنے کی بجائے ان کے آقاحاطب بن ابی بلتعہ سے اونٹنی کی قیمت سے دوگناتاوان وصول کیا۔قحط کے زمانے میںایک شخص حضرت عمر کے پاس اونٹنی کی چوری کی شکایت لایاکہ اس کی اونٹنی چوری کر کے ذبح کر لی گئی تھی،حضرت عمر نے اسے دو اونٹنیاںدے دیں اور ساتھ کہا کہ ہم قحط کے زمانے میں حد سرقہ جاری نہیں کیا کرتے۔شبہ کے مال سے چوری کرنے پر بھی حد جاری نہیں ہو گی جیسے دس آدمی کچھ مال کے مشترک مالک ہیں اور ان میں ایک آدمی اس مال کا کچھ حصہ چوری کرلیتاہے تواس پر حد سرقہ جاری نہیں کی جا سکے گی کیونکہ اس مال میں اس کے حصے کا بھی حق شبہ تھا۔مال چھیننے والے پر حد سرقہ جاری نہیں ہو گی کیونکہ وہ چوری نہیں ہے اور اگر راستہ روک کر مال چھیناگیاہے تو حد حرابہ جاری ہو گی،اسی طرح امانت میں خیانت کرنے والے پراور عاریتاًچیزلے کر واپس نہ کرنے والے پر بھی حد سرقہ جاری نہیں ہو سکے گی اور یہ لوگ تعزیر کے مستحق ہوں گے۔بعض فقہاسبزیوں اور پھلوں کے کھالینے کو اور جانوروںکے دودھ دوہ کر پی لینے کوبھی چوری نہیں سمجھتے لیکن یہ کہ صرف کھانے پینے کے بقدر ہی لیے گئے ہوں یعنی مسافر دوران سفر کسی باغ سے بغیراجازت پھل توڑ کر کھالے یابغیراجازت جانورکادودھ دوہ کر پی لے تو حد سرقہ جاری نہیں کی جائے گی لیکن اگر کپڑے اوربرتن بھربھرکر لے جانے لگیں تو پھر جملہ شرائط پوری ہونے پر پھلوں اور سبزیوں اور جانوروں کے دودھ چوروں پر بھی حد جاری ہو گی۔چور کے پاس سے چوری کاسامان برآمد ہوجائے تواسے مالک کو واپس کردینالازم ہے۔سامان کی برآمدگی،اقرارجرم اور گواہان چور کا جرم ثابت کرنے کے طریقے ہیں۔

یورپی تہذیب کی نارواتقلید میںاسلامی شریعت کی سزائیں نافذنہ ہونے کے باعث آج چوری ایک فن اور پیشہ بن چکاہے،افراد سے کر ادارے تک اس گھناونے جرم میں ملوث ہیںاور چوروں کے منظم گروہ ہیں جو مقامی سطح سے بین الاقوامی سطح تک باہم مربوط ہیں اور بعض مقامات پر تو اس قدر طاقتورہیں کہ وہاں کی حکومتیں بھی بے بس ہیں اور ے بس کیوں نہ ہوں کہ مغربی جمہورہت کی بہت ساری قباحتوں میں ایک قباحت یہ بھی ہے تیسری دنیامیں جرائم پیشہ لوگ اس یورپی تہذیب کے مکروہ تحفے کے باعث بڑی آسانی اقتدارکے ایوانوں تک پہنچ جاتے ہیںاور پھر اپنے ہم پیشہ افراد کے لیے تحفظ کاسامان فراہم کرتے ہیں اور اقوام کی اقوام اوربھری آبادیوںکے شہر کے شہر ہیں جو اس طرح کے جرائم پیشہ چوروں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں اور انہوں ے انسانیت کا جینا محال کررکھاہے اور ’’انسانی حقوق‘‘کے دعوے دار انہیں اس طرح کی سزاؤںسے بچانے کے ذمہ دار ہیں۔ہمیشہ کی طرح آج بھی اسلامی شریعت کی تجویزکردہ سزائیں ہی انسانیت کوجرائم کی اس دلدل سے نکالنے کی ضامن ہیں اور آفاقی قوانین ہی انسانیت کے بہترین خیرخواہ ہو سکتے ہیں جن میں تمام طبقات کے لیے فوزوفلاح کی ضمانت موجود ہے۔