داتا دربار سے پنجاب اسمبلی تک ناموس رسالت مارچ

لاہور۔ ( ویب ڈیسک ، اردو ویب نیوز )گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کیخلاف ناموس رسالت ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام داتا دربار سے پنجاب اسمبلی تک عظیم الشان ناموس رسالت مارچ کا اہتمام کیا گیا جس میں ہزاروں عاشقان ِ رسول نے بھر پور شرکت کی۔ مارچ کی قیادت جمعیت علماء پاکستان، عالمی تنظیم اہلسنت ،فدایان ختم پاکستان، تحریک صراط مستقیم پاکستان ،پاکستان سنی تحریک ، مرکزی جماعت اہلسنت پاکستان ، جماعت رضائے مصطفی پاکستان ،کاروان رسول پاکستان ، مجلس علماء نظامیہ پاکستان اور بزم مشتاقانِ رسول پاکستان کے قائدین حضرت پیر محمد افضل قادری ،علامہ حافظ خادم حسین رضوی ،مفتی ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی ،صاحبزادہ شاہ محمد اویس نورانی صدیقی ،محمد شاداب رضا، پیر سید ظہیر الحسن شاہ بخاری ،مولانا صاحبزادہ محمد داؤد رضوی ،پیر محمد ظفر اقبال شاہ، پیر میاں ولید احمد شرقپوری ، پیر سید غلام صمدانی ماہی ، پیر سید سیف اللہ شاہ بخاری ،پیر سید ضیاء الاسلام شاہ ،غازی محمد ثاقب شکیل جلالی ، مولانا سید ریاض شاہ ،پیر انیس الرحمن ،پیر محمد محمود احمد ،پیر سید افضال شاہ مشہدی ،مولانا فاروق احمد ضیائی اور حاجی محمد شفیق کیلانی نے کی ۔اس موقع پر نعرہ تکبیر ورسالت اور لبیک یارسول اللہ کی صداؤں سے فضا گونج اٹھی ۔ امیر عالمی تنظیم اہلسنت پیشوائے اہلسنت پیر محمد افضل قادری، امیر فدایان ختم نبوت پاکستان علامہ حافظ خادم حسین رضوی، جنرل سیکرٹری جمیعت علماء پاکستان صاحبزادہ شاہ محمد اویس نورانی صدیقی، سربراہ تحریک صراط مستقیم پاکستان ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی ودیگر مقررین نے کہا کہ سید المرسلین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کوئی مسلمان ہر گز برداشت نہیں کر سکتا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کی حفاظت جو شخص بھی کرے وہ غازی اسلام اور اہل ایمان کا حقیقی ہیرو ہے۔ فرانسیسی جریدے کے جانب سے گستاخانہ مواد کی اشاعت سے ظاہر ہوتا ہے عالمی طاغوت امن عالم کو خطرے میں ڈالنا چاہتا ہے ۔سوئیڈن میں مساجد پر حملے اور اُنہیں نذر آتش کیا جاتا ہے اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ پاکستان حکمرانوں سے بھی ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ اسلام آباد میں ’’ ناموس رسالت مارچ ‘‘ کر کے غیرت دینی کا ثبوت دیں ۔ اور ذمہ دار ممالک کے سفیروں کو ملک بدر کریں اور اسلام آباد میں ’’اسلامی سربراہی کا نفرنس‘‘ کااعلان کر کے زبردست رد عمل کا اظہار کریں۔ جبکہ پاکستانی حکمران ہوش کے ناخن لیں کہ حکومتی اداروں میں طالبان کے حامیوں نے کریک ڈاؤن کا رخ پرامن اور افواج پاکستان کے حامی اہلسنت وجماعت بریلوی حضرات کی طرف پھر دیا ہے او ر تحقیقاتی کتب اور لاؤڈ اسپیکر کا بہانہ کر کے چوروں ،ڈاکوؤں کی طرف پر امن اہلسنت کی گرفتاریاں اور دہشت گردی کے مقدمے درج کر کے آپریشن ضرب عضب کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ارباب اقتدارِ جان لیں کہ اہلسنت وجماعت کسی صورت میں مداخلت فی الدین برداشت نہیں کرینگے ۔اگر حکومت اپنی اس روش سے باز نہ آئی تو راست اقدام اٹھایا جائے گا لہذا تمام تر توجہ آپریشن ضرب عضب کی کامیابی پر مرکوز کی جائے اور لاؤدڈ اسپیکر اور اسلامی وتحقیقی لٹریچر پر کریک ڈاؤن بلا تاخیر بند کیا جائے ۔ توہین رسالت کرنے والوں کو 1ارب 60کروڑ کے جذبات مجروح کرنے سے باز رہنا چاہیے اور مادر پدر آزادی اظہار کی حدود معین کرنی چاہیے ۔عالم کفر نے آزادی اظہار رائے کے نام پر فکری دہشت گردی شروع کر رکھی ہے اور ہمارے نام نہاد مسلمان حکمران بھی کلمہ حق بلند نہیں کررہے۔ اگر گستاخانہ مواد شائع کرنے والوں سے اظہار یکجہتی کیلئے 40ممالک کے حکمران اکٹھے ہو سکتے ہیں تو توہین آمیز مواد کی اشاعت روکنے کیلئے 57اسلامی ممالک کے حکمران آگے کیوں نہیں آرہے؟ یہاں یہ بات بھی انتہائی تشویش ناک ہے کہ پاکستان سمیت کسی ایک بھی نام نہاد اسلامی ملک نے اس حوالے سے ٹھوس مؤقف پیش نہیں کیا جبکہ فرانسیسی جریدے کی حمایت میں آسٹریلیا اور جرمنی کے اخبار جرائد نے گستاخانہ خاکوں کو مزید اشاعت کی ہے۔ مقررین نے مزید کہا کہ ہم فرانس سے معافی کا مطالبہ نہیں کرتے بلکہ گستاخوں کی پھانسی کا مطالبہ کرتے ہیں یہ لمحہ فکریہ ہے کہ فرانس میں ان دو ہفتوں میں مسلمانوں کی دل آزاری کے 128واقعات ہو چکے ہیں مغربی حکمران گستاخیوں کے بعد مسلسل اکڑ رہے ہیں مگر مسلم حکمران ان کے سامنے سکڑ رہے ہیں ایسے حالات میں سعودی حکومت پر مدینہ منورہ ملینز مارچ کا انعقاد ناگزیر ہو چکا ہے او آئی سی فوری طور پر مسلم حکمرانوں اور رہنماؤں کی مسجد نبوی شریف میں جمع کر کے آئندہ کا لا ئحہ عمل تیار کرے ۔یورپی یونین سے تعظیم انبیاء علیہم السلام کیلئے قانون سازی کروائے۔ یہ قانون ساز ی مسلم حکمرانوں کی طرف محض عریضہ بھجوانے سے نہیں بلکہ فریضہ نبھانے سے ہو سکے گی۔ آخر میں پیر محمد افضل قادری نے آئندہ کا لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 6 فروری بروز جمعہ پورے ملک میں خطبات جمعہ کا عنوان تحفظ ناموس رسالت ہو گا جس میں ناموس رسالت کی حساسیت وذمہ داری کے حوالے سے عوامی شعور بیدار کیا جائے گا اور 4فروری بروز بدھ گجرات میں عظیم الشان ’’ کل پاکستان علماء ومشائخ کنونشن ‘‘ کا انعقاد کیا جائے گا۔