حکمران اپنی مدت کے 20 ماہ خوش کن اعلانات، بیانات اور بیرونی دوروں میں گزارچکے ہیں

حکومت مہنگائی، بیروزگاری، دہشتگردی اورلوڈشیڈنگ جیسے مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہوچکی ہے
ملک میں امن وامان کویقینی بنانے کے لئے تمام کوششیں بروئے کار لائی جائیں۔
امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اختر کی زیرصدارت منصورہ میں صوبائی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں متفقہ طور پر قرار داد منظور
لاہور ۔ ( ویب ڈیسک ، اردو ویب نیوز ) جماعت اسلامی پنجاب کی صوبائی مجلس شوریٰ کااجلاس پارلیمانی لیڈر پنجاب اسمبلی وامیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اختر کی زیر صدارت گزشتہ روز منصورہ لاہور میں منعقد ہوا ۔اجلاس میں ملک کی سیاسی صورتحال پر قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی جس میں کہا گیاہے کہ جماعت اسلامی پنجاب کی صوبائی مجلس شوریٰ کایہ اجلاس ملک کی سیاسی صورتحال پر تشویش کااظہار کرتا ہے۔ووٹ کے ذریعے آنے والی کسی بھی سیاسی حکومت کی کامیابی اور ناکامی کامسلمہ معیار یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے انتخابی منشور اور وعدوں کوعملی جامہ پہنانے کے ساتھ ساتھ عوام کے جان ومال کاکتنا تحفظ کرتی ہے اور انہیں زندگی گزارنے کے لئے کتنی آسانیاں فراہم کرتی ہے۔حکومت اپنی مدت کے20ماہ خوش کن اعلانات،بیانات اور بیرونی دوروں میں گزارچکی ہے۔عوام حسب سابق مہنگائی، بے روزگاری،بدامنی،دہشتگردی،لوڈشیڈنگ جیسے مسائل میں پس رہے ہیں جبکہ پٹرول کے تازہ ترین بحران نے حکومت کی نااہلی اور غیر موثر انتظامی صلاحیت پرمہرتصدیق ثبت کردی ہے۔حکومت دہشتگردی کے خاتمے کے لئے اب تک تجاویزوترمیمات اور کانفرنسیں ہی کرسکی ہے۔نیکٹاکاادارہ اعلان سے آگے نہیں بڑھ سکا۔انسداددہشتگردی کی ریپڈفورس بھی حرکت میں نہ آسکی۔تحفظ پاکستان آرڈیننس بھی صفحہ قرطاس سے باہر نہ آسکا اور اب اپنی ساری انتظامی ناکامیوں کاملبہ ملٹری کورٹس پر ڈال دیاگیا ہے۔جماعت اسلامی پنجاب پورے ملک میں ہونے والی ہر قسم کی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہوئے اس بات کااظہار کرتی ہے کہ اصل دہشتگردی کاسدباب کرنے کے بجائے مذہب،مدارس اور مساجد کے ساتھ ساتھ دینی جماعتوں کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کی باتیں ہورہی ہیں۔مجلس شوریٰ کایہ اجلاس محسوس کرتا ہے کہ سابقہ قومی انتخابات پر ہرپارٹی نے تشویش کااظہار کیاتھا۔ان انتخابات پر جوڈیشل کمیشن موخر اور ملتوی چلے آرہے ہیں جوحکومت کی بدنیتی کااظہار ہیں۔اس نازک مرحلہ پر ملک کو چلانے کے لئے جس اجتماعی دانش،قومی اتفاق رائے اور سیاسی استحکام کی ضرورت ہے اس کے پیش نظر نہ صرف جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے حالیہ عرصے میں مذاکرات اور جرگے کی صورت میں ان تھک محنت اور مسلسل کاوش کی ہے بلکہ دیگر جماعتوں نے بھی اپنے مطالبات پر اڑنے کی بجائے کسی نہ کسی لحاظ سے حکومت کواصلاح احوال کے لئے مواقع دیئے ہیں۔حکومت کایہ فرض ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں کی اس فراخ دلی کواپنی طاقت سمجھ کر غرور میں مبتلاء نہ ہوبلکہ حکومت عوام کے اصل اور بنیادی مسائل کوحل کرنے پر توجہ دے اور مذاکرات کے ذریعے اتحادکوفروغ دے۔حکومت نے کچھ عرصہ قبل دعویٰ کیاتھاکہ وہ تمام وزارتوں کی مانیٹرنگ کرے گی،کرائسزمینجمنٹ سیل بنائے گی اور کارکردگی ثابت نہ کرنے والے وزراء کو فارغ کردے گی لیکن یہ فیصلے بھی نقش برآب ہی ثابت ہوئے ہیں۔یہ اجلاس حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ پاکستان میں امن وامان کویقینی بنانے کے لئے تمام کوششیں بروئے کار لائے۔اس مقصد کے لئے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے 2015ء کوامن کاسال بنانے کیلئے عوام کی جان،مال،عزت اور آبرو کومکمل تحفظ دینے کے لئے جولائحہ عمل دیا ہے اس پرخصوصی توجہ دے۔امن کویقینی بنانے کے بعد ہی ملک معاشی ترقی کی طرف بڑھ سکتاہے جس سے بے روزگاری اور بدامنی کابھی خاتمہ ہوسکے گا۔